میرا سوال ای کامرس بزنس کی قسم ،ڈراپ شیپنگ سے متعلق ہے میں اس میں سرمایہ کاری کرنا اور بھاری مقدار میں پراڈکٹس آن لائن فروخت کرنا چاہتا ہوں، بنیادی طور پر ایک چیز جسے آپ مثلاً: بارہ روپے میں بیجتے ہیں، جبکہ وہ آپ کے قبضہ میں نہیں ہوتی، جب اس کی فروختگی کا معاملہ ہوچکے تو آپ وہ چیز مینو فیکچرر ہول سیل سے دس روپے میں خرید لیتے ہیں، پھر مینو فیکچرر، ہول سیل اپ کے کسٹمر کو وہ چیز براہ راست پہنچا دیتا ہے، اور اس دوران وہ چیز اپ کے قبضہ میں نہیں آئی ہوتی، اور درمیان میں جو دو روپے منافع بچا وہ آپ کا ہوجاتا ہے، بارہ مہربانی مجھے بتائیں کہ کیا یہ جائز ہے یا نہیں؟
واضح ہو کہ خرید وفروخت کے شرعاً جائز ہونے کی شرائط میں سے ایک شرط یہ بھی ہے کہ بیچنے والا جس چیز کو بیچ رہا ہے وہ اس کی ملکیت اور حسی یا معنوی قبضے میں ہو، اور اور اگر وہ کسی ایسی چیز کو بیچتا ہے جو اس کی ملکیت میں نہیں ہے تو بیع درست نہیں ہوتی بلکہ باطل اور کالعدم شمار ہوتی ہے۔
سوال میں ڈراپ شپنگ کا کاروبار کرنے والے کا حسی یا معنوی طور پر کوئی ایسا اسٹور موجود نہیں ہوتا، جس میں وہ سامان کا اسٹاک رکھے، اس لئے جب وہ کوئی چیز اپنے گاہک کو بیچتا ہے وہ عقد کے وقت اسکی ملکیت میں نہیں ہوتی بلکہ خریداری کا معاہدہ ہوجانے کے بعد خرید کر گاہک کو دیدتا ہے،لہذا غیر مملوک کی بیع ہونے کی بناء پر مذکور معاملہ شرعاً درست نہیں جس سے احتراز لازم ہے، البتہ اس کے جواز کی دو صورتیں ہوسکتی ہیں،
( الف) ایک صورت یہ ہوسکتی ہے کہ ڈراپ شپنگ کا کاروبار کرنے والا (سائل) معاملہ کی ابتداء میں اپنے گاہک کو یہ نہ کہے کہ یہ چیز میں آپ کو بیچ رہا ہوں، بلکہ یہ کہے کہ یہ چیز بیچنے کا معاہدہ کرتا ہو، اس طرح یہ بیع نہیں بلکہ وعدہ بیع ہوجاتا ہے، اور اس وقت رقم لینا ہامش جدیہ (پیشگی ادائیگی) کے طور پر درست ہوگا، پھر وہ ہول سیلر دکاندار سے مطلوب آئٹم خرید کر خود یا وکیل کے ذریعہ حسی یا معنوی قبضہ میں اس طور پر لے کہ وہ سائل کے ضمان (Risk) میں آجائے، تب وہ خریدار کو فروخت کے کے ڈلیور کر دے۔
(ب) دوسری جائز متبادل صورت وکالت دلال (Brokwrage) کی ہے،کہ سائل گاہک سے آرڈر لے اور مطلوبہ چیز ہول سیلر یا دکاندار سے خرید کر گاہک تک پہنچا ئے یا وہ ہول سیلر دکاندار خود پہنچا دے اور سائل اپنی محنت کی طے شدہ اجرت لے، تو اس صورت میں اصل بائع وہ ہول سیلر دکاندار ہوگا اور سائل کی حیثیت ایک وکیل (Middle man) کی ہوگی، جو شریعت میں ایک قابل عوض محنت ہے جس پر مقررہ متعین اجرت لینا شرعاً جائز ہے۔
کما فی الھندیۃ: قال: "ولا يجوز بيع السمك قبل أن يصطاد" لأنه باع مالا يملكه "ولا في حظيرة إذا كان لا يؤخذ إلا بصيد"؛ لأنه غير مقدور التسليم، ومعناه إذا أخذه ثم ألقاه فيها لو كان يؤخذ من غير حيلة جاز، إلا إذا اجتمعت فيها بأنفسها ولم يسد عليها المدخل لعدم الملك. قال: "ولا بيع الطير في الهواء" لأنه غير مملوك قبل الأخذ، وكذا لو أرسله من يده لأنه غير مقدور التسليم الخ (3/34)۔
کما فی الدر المختار: وأما الدلال فإن باع العين بنفسه بإذن ربها فأجرته على البائع وإن سعى بينهما وباع المالك بنفسه يعتبر العرف وتمامه في شرح الوهبانية.( 4/560)۔
و فی ردالمحتار: تحت (قوله: يعتبر العرف) فتجب الدلالة على البائع أو المشتري أو عليهما بحسب العرف جامع الفصولين. الخ ( 4/560)۔
و فی الھدایۃ: ( ولایجوز بیع السمک قبل ان یصاد) لانہ باع مالا یملکہ الخ (4/34)۔
و فی الفتح: ومثل الامر المضارع المقرون بالسین نحو سابیعک فلایصح یبعاً ولا یجوز بہ فی معنی بعتک فی الحال الخ (6/251)۔
تصاویر والے ڈبوں اور پیکٹوں میں پیک شدہ اشیاء کا کاروبار-نسوار اور سگریٹ کا کاروبار
یونیکوڈ کاروبار 0