السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! کیا عورت اپنے محترم شوہر کے برابر ایک ہی مصلیٰ پر اپنی انفرادی نماز ادا کر سکتی ہے؟ جبکہ دونوں جماعت میں نہیں ہوں، بلکہ اپنی انفرادی نماز ادا کر رہے ہوں یا عورت کا مرد کے برابر نماز ادا کرنے سے جماعت اور غیر جماعت دونوں صورتوں میں احتراز لازم ہے،نیز دیگر محرم مردوں کے لیے اس زمرے میں کیا حکم ہے؟
اگر میاں بیوی ایک ساتھ کسی امام کی اقتداء میں نماز پڑھ رہے ہوں اور دونوں ایک دوسرے کے برابر کھڑے ہو جائیں تو اس سے مرد کی نماز فاسد ہو جائےگی اور اگر دونوں اپنی تنہا نماز پڑھ رہوں اور ایک ہی مصلیٰ پر کھڑے ہو جائیں تو اس صورت میں کسی کی بھی نماز فاسد نہیں ہوگی، مگر ایسا کرنا مکروہ ہے، اس لیے ایسا کرنے سے احتراز اور علیحدہ علیحدہ مصلے پر نماز پڑھنے کا اہتمام چاہیے۔
ففی الدر المختار: فمحاذاة المصلية لمصل ليس في صلاتها مكروهة لا مفسد اھ(1/ 574)
وفی حاشية ابن عابدين: المرأة إذا صلت مع زوجها في البيت، إن كان قدمها بحذاء قدم الزوج لا تجوز صلاتهما بالجماعة اھ(1/ 572)
وفی الفقه الإسلامي وأدلته: محاذاة المرأة الرجل في الصلاة من غير فرجة تسع مكان مصلٍ، أو من غير حائل، سواء أكانت المرأة مَحْرماً كأخت أو بنت، أم غير محرم كزوجة. (2/ 1039)
جاننے والے اور نا جاننے والے برابر ہیں؟ علم میں بخل ,حسد و غرور کرنا, بغير استاد تحصيل علم
یونیکوڈ مکروھات نماز 0