Csd ایک ادارہ ہے، جو کہ اقساط پر مختلف آئیٹم فراہم کرتا ہے، ان کی یہ شرط ہے کہ اگر ماہانہ قسط لیٹ ہو گئی، تو جرمانہ ادا کرنا ہو گا ،اور جلدی جمع کرنے پر کچھ رقم واپس مل جائیگی-
مہربانی کر کے میری راہ نمائی فرمائیں کہ یہ سود ہے یا نہیں؟
قسطوں پر خرید و فروخت کرنا مندرجہ ذیل شرائط کو مد نظر رکھتے ہوئے درست ہے:
ا: مجلسِ عقد میں ہی یہ طے کر لیا جائے کہ یہ معاملہ ادھار قسطوں پر ہو گا۔
(۲) :ہر قسط کی مالیت طے کر لی جائے۔
(۳):یہ بھی طے کر لیا جائے کہ کل کتنی اقساط ہوں گی۔
(۴) کسی قسط کی تاخیر کی وجہ سے کوئی جرمانہ وغیرہ بھی مشروط نہ ہو۔ چنانچہ سائل ان شرائط کے مطابق بائیک خریدے تو شرعا جائز اور درست ہے۔
کمافی فقه البيوع: وكما يجوز ضرب الأجل لأداء الثمن دفعة واحدة، كذلك يجوز أن يكون أداء الثمن بأقساط، بشرط أن تكون أجال الأقساط ومبالغها معينة عند العقد، وقد يسمى البيع بالتقسيط، ، وهو نوع من البيع المؤجل اھ(۱/ ۵۳۹)۔
تصاویر والے ڈبوں اور پیکٹوں میں پیک شدہ اشیاء کا کاروبار-نسوار اور سگریٹ کا کاروبار
یونیکوڈ کاروبار 0