اگر بیوی اپنے گھر والوں کے ساتھ میکے جائے،وہاں کچھ دن رہنے کی نیت سے , اور وہاں سے اپنے والد یا والدہ یا خالہ کے ساتھ کسی رشتہ دار کے گھر جائے تو شوہر کی اجازت ضروری ہے یا نہیں؟
مذکور رشتہ داروں کے ہاں جانے کیلئے شوہر سے مستقل اجازت لینے کی ضرورت نہیں ہے،البتہ بعد میں کوئی ناگواری کا اندیشہ ہو تو پیشگی اجازت لینا بہتر ہے،تاکہ گھر کا ماحول خراب نہ ہو۔
کما فی الدر المختار: (و) لها (السفر والخروج من بيت زوجها للحاجة؛ و) لها (زيارة أهلها بلا إذنه ما لم تقبضه) أي المعجل، فلا تخرج إلا لحق لها أو عليهاأو لزيارة أبويها كل جمعة مرة أو المحارم كل سنة اھ(3/145)۔
وفی الفتاوی التاتارخانیة: وفی مجموع النوازل:وللرجل أن یأذن لامرأته بالخروج الیٰ سبعة مواضع أحدھا: الیٰ زیارة الأبوین وعیادتھما أو أحدھما وتعزیتھما أو تعزیه أحدھما، والثانی: زیارة الأقرباء (الیٰ قوله) والسادس:اذا کان لآخر علیھا حق، وفی نحو ھذہ الصور لایجوز لھا أن تخرج بغیر اذن الزوج اھ (3/213)