جناب میر اسوال یہ ہے کہ ایک آدمی عمرہ کی نیت کر کے مکہ پہنچ گیا ، وہاں جاکر عمرہ شروع کرنے سے پہلے اس کے جسم اور احرام پر نجاست لگ گئی ، اس نے غسل کر کے نیا احرام باندھ لیا، اور مسجد عائشہ جا کر دوبارہ نیت کر کے عمرہ ادا کیا ، کیا اس کایہ عمل ٹھیک ہے ؟ اگر اس پر دم ہے تو طریقہ بتائیں ؟ کیا پاکستان میں دم ادا کر سکتے ہیں ؟
اگر مذکور شخص نے پہلی مرتبہ میقات میں داخل ہونے سے پہلے ہی احرام باندھ کر عمرہ کی نیت کر لی تھی اور پھر نجاست لگنے کی وجہ سے احرام بدلنا پڑا ہو تو اس کی وجہ سے اس پر دم لازم نہیں ہوا، پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔
كما في الفقه الحنفي وأدلته : و لا بأس عند الحنفية ان يغتسل المحرم و يدخل الحمام لانه طهارة اهـ ( ج٣ص٢٣٦).
وفيهأیضاً : و له مع الكرابة الغسل بسدر وخطمى ونحوهما كصابون و اشنان وله غسل ثياب الاحرام ( ج ۳ ص ۲۳۸) ۔