(+92) 0317 1118263

کاروبار

ویڈیوگیمزکی آمدنی کا حکم

ویڈیوگیمزکی آمدنی کا حکم فتوی نمبر: 35367

سوال

میری ویڈیو گیمز کی دکان ہے، کیا میری کمائی حرام ہے یا حلال؟ میری دکان میں ’’جوا‘‘ نہیں ہوتا، نہ ہی چوری کی بجلی استعمال ہوتی ہے؟ کرایہ بھی دیتا ہوں، مہربانی کرکے اس کے بارے میں بتائیں۔

الجواب حامدا و مصلیا

مذکور ویڈیو گیم میں شرطیہ کھیل نہ کھیلا جاتا ہو بلکہ وقتی طور پر ذہنی یا جسمانی تھکاوٹ دور کرنے کیلئے یہ کھیل کھیلا جاتا ہو اور اس میں دیگر ممنوعات سے بھی بچا جاتا ہو تو فی نفسہٖ اس کی گنجائش ہے اور اس سے حاصل ہونے والی آمدنی بھی سائل کیلئے حلال ہوگی۔
تاہم ایک مسلمان کیلئے مناسب نہیں کہ وہ لہو ولعب کو اپنا ذریعۂ معاش بنائے، بلکہ کوئی اور جائز ذریعہ معاش اختیار کرنا چاہئے۔


ففی الدرّ المختار: (و) کرہ تحریما (اللعب بالنرد و) کذا (الشطرنج) بکسر أولہ ویہمل ولا یفتح إلّا نادرًا وأباحہ الشافعی وأبو یوسف فی روایۃ ونظّمہا شارح الوہبانیۃ فقال:


ولا بأس بالشطرنج وہی راویۃ: عن الحبرقاضی الشرق والغرب تؤثر، وہذا إذا لم یقامر ولم یداوم ولم بخل بواجب وإلا فحرام بالاجماع ۔ (و) کرہ (کل لہو) لقولہ – علیہ الصلوٰۃ والسلام – ’’کل لہو المسلم حرام إلا ثلاثۃ: ملاعبتہ أہلہ وتأدیبہ لفرسہ ومناضلتہ بقوسہ‘‘۔ الخ (ج۷، ص۳۹۴)


وفی الموسوعۃ الفقہیۃ الکویتیۃ: أجمع المسلمون علی أن اللعب بالشطرنج حرام إذا کان علی عوض أو تضمن ترک واجب مثل تأجیر الصلاۃ عن وقتہا، وکذلک إذا تضمن کذبا أو ضرر أو غیر ذلک من المحرمات۔ (ج۳۵، ص۲۶۹) واللہ اعلم بالصواب