السلام علیکم جناب!
پوچھنا یہ ہے کہ ہنڈی کے ذریعہ سے ہم پیسہ بھیجتے ہیں، اور اس کے لئے تو بسا اوقات ہم بھیجنے والے کو اس وقت پیسہ دیتے ہیں، جب اس کے ساتھ فون پر رابطہ کر کے ریٹ معلوم کرکے پیسہ بھیج دیتے ہیں، اور جب ان کو دو چار دن بعد آسانی ہوتی ہے ،تو وہ آکر پیسہ وصول کرتے ہیں، کیا ایسا کرنا جائز ہے ؟
سائل کا سوال مکمل واضح نہیں، البتہ ہنڈی کے کاروبار کے متعلق اصولی جواب یہ ہے کہ ہنڈی کا کارو بارفی نفسہ جائز ہے، بشر طیکہ اس میں بوقتِ عقد کسی ایک جانب سے مجلس میں رقم پر قبضہ ہو جائے، مگر مروّجہ ہنڈی کا کاروبار شرعاً ممنوع ہے ، اولاً تو اس وجہ سے کہ اس میں قرض مشروط بالشرط ہوتا ہے، اور یہ جائز نہیں، اور ثانیاً اس بناء پر کہ یہ قانوناً منع ہے اور حکومت کے ہر اس قانون پر عمل لازم ہے جو کسی اصل شرع کے خلاف نہ ہو۔
ففي الدر المختار: وكرهت السفتجة) بضم السين وتفتح وفتح التاء، وهي إقراض لسقوط خطر الطريق، فكأنه أحال الخطر المتوقع على المستقرض فكان في معنى الحوالة وقالوا: إذا لم تكن المنفعة مشروطة ولا متعارفة فلا بأس. (5/ 350)۔
وفي حاشية ابن عابدين: وفي الفتاوى الصغرى وغيرها: إن كان السفتج مشروطا في القرض فهو حرام، والقرض بهذا الشرط فاسد وإلا جاز. (5/ 350) -
تصاویر والے ڈبوں اور پیکٹوں میں پیک شدہ اشیاء کا کاروبار-نسوار اور سگریٹ کا کاروبار
یونیکوڈ کاروبار 0