۱۔جناب میرا سوال یہ ہے کہ ظہر کی سنتِ مؤکدہ کے بارے میں کیا حکم ہے؟اگر نہ پڑھیں تو کوئی گناہ ہے؟
۲۔ فجر کی سنتیں اگر رہ جائیں ، تو فرض کے بعد پڑھ سکتے ہیں؟
۳۔ سب نمازوں کی سنتوں کے بارے میں کیا حکم ہے کہ یہ لازمی پڑھنی چاہیۓ یا نہیں ؟اور نہ پڑھنے سے کوئی گناہ ہے یا نہیں؟
۴۔ اسی طرح عشاء کے تین وتر کے بارے میں کیا حکم ہے؟ برائے مہربانی دینِ اسلام کی تعلیمات کی روشنی میں راہ نمائی فرمائیں ۔
۱ ۔ ظہر کی چار رکعت سنتِ مؤکدہ اگر کوئی شخص بلا کسی عذرِ شرعی ، دوام کے ساتھ نہیں پڑھتا ہے تو ایسا شخص یقیناً گنہگار ہوگا اور اس کا یہ عمل مستحقِ ملامت اور نبی کریم ﷺ کی شفاعت سے محرومی کا باعث ہے۔
۲۔ فجر کی سنتیں اگر رہ جائیں تو فرض نماز کے فوراً بعد طلوعِ شمس تک نہیں پڑھ سکتے ، البتہ طلوعِ شمس کے بعد اس دن کے زوال تک بعض علماء نے پڑھنے کی ترغیب دی ہے ، اس لۓ اگر فجر کی سنتیں رہ جائیں تو طلوعِ شمس کے بعد ، زوال سے پہلے پہلے تک اس کو پڑھنے کا اہتمام کرنا چاہیۓ۔
۳۔سب نمازوں کی سننِ مؤکدہ کا ادا کرنا ضروری ہے، لہٰذا اصرار کے ساتھ بلا عذر ان کو چھوڑنے والا فاسق اور مستحقِ ملامت ہے، البتہ سننِ غیر مؤکدہ کو نہ پڑھنے سے کوئی گناہ نہیں۔
۵۔ وتر کا پڑھنا واجب ہے،اس کا ترک کرنا جائز نہیں۔
في الدر المختار : (و سننه) (الى قوله) و حكمها ما يؤجر على فعله و يلام على تركه الخ و في حاشية ابن عابدين تحت (قوله: ويلام) أي يعاتب بالتاء لا يعاقب ، كما أفاده في البحر و النهر ، لكن في التلويح ترك السنة المؤكدة قريب من الحرام يستحق حرمان الشفاعة ، لقوله - عليه الصلاة و السلام - «من ترك سنني لم ينل شفاعتي» . اهـ. و في التحرير : إن تاركها يستوجب التضليل و اللوم ، اهـ و المراد الترك بلا عذر على سبيل الإصرار اھ (1/ 104)۔
و فیه أیضاً : (قوله و لا يقضيها إلا بطريق التبعية إلخ) أي لا يقضي سنة الفجر إلا إذا فاتت مع الفجر فيقضيها تبعا لقضائه لو قبل الزوال ؛ و اما إذا فاتت و حدها فلا تقضى قبل طلوع الشمس بالإجماع ، لكراهة النفل بعد الصبح. و أما بعد طلوع الشمس فكذلك عندهما. و قال محمد: أحب إلي أن يقضيها إلى الزوال كما في الدرر. قيل هذا قريب من الاتفاق لأن قوله أحب إلي دليل على أنه لو لم يفعل لا لوم عليه. و قالا : لا يقضي ، و إن قضى فلا بأس به اھ (2/ 57)۔
و فیه أیضاً : لتصريحهم بأن من ترك سنن الصلوات الخمس قيل : لا يأثم و الصحيح أنه يأثم اھ(1/ 104)۔
و في الفتاوى الهندية : عن أبي حنيفة - رضي الله تعالى عنه - في الوتر ثلاث روايات في رواية فريضة ، و في رواية سنة مؤكدة ، و فی رواية واجب و هي آخر أقواله و هو الصحيح. كذا في محيط السرخسي و لو كان سنة تبعا للعشاء لكره تأخيره إلى آخر الليل كما يكره تأخير سنتها تبعا لها هكذا في التبيين اھ (1/ 110)۔
سنن زوائد یا نفل کی چار رکعات میں قعدۂ اولیٰ میں تشہد کے بعددرود شریف اور ادعیۂ ماثورہ پڑھنا
یونیکوڈ نوافل 0