نوافل

وتر کے بعد دو رکعت نفل پڑھنا- شوال کے چھ روزے رکھنے کا حکم

فتوی نمبر :
574
| تاریخ :
2004-11-28
عبادات / نوافل عبادات / نوافل

وتر کے بعد دو رکعت نفل پڑھنا- شوال کے چھ روزے رکھنے کا حکم

محترم مفتی صاحب! اہلِ کراچی سے تعلق رکھنے والے اہلِ سنت و الجماعت (دیوبند) کے بہت ہی قابل احترام ، ایک عالمِ دین سے سنا ہے کہ نمازِ وتر کے بعد نفل نہیں ہے ، یعنی وہ تہجد ہے ، نیز یہ بھی کہا کہ شوال کے چھ روزے رکھنا بدعت ہے، براہِ کرم آپ بتائیں کہ اس بارے میں فتویٰ کیا ہے؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

۱۔جمہور اہلِ السنۃ و الجماعۃ کے نزدیک نمازِ وتر کے بعد دو ر رکعت نفل پڑھنا بلاشبہ جائز ، درست اور احادیثِ مبارکہ سے بھی ثابت ہے۔
۲۔ اسی طرح شوال کے چھ روزے رکھنا بھی احادیثِ صحیحہ سے ثابت ہے ، اگرچہ بعض حضرات نے اس بارے میں اختلاف کیا ہے، مگر یہ شرعاً معتبر نہیں۔

مأخَذُ الفَتوی

و فی الترغيب و الترهيب : عن أبي أيوب رضي الله عنه ؛ أنَّ رسول الله - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قال: "من صام رمضان ، ثم أتبعه ستاً من شوال ؛ كان كصيام الدهر". رواه مسلم و أبو داود و الترمذي و النسائي و ابن ماجه. (1/ 589)۔
و فی الدر المختار : (و ندب تفريق صوم الست من شوال) و لا يكره التتابع على المختار اھ(2/ 435)۔
و فی شرح معاني الآثار : عن عائشة رضي الله عنها «أن رسول الله صلى الله عليه و سلم ركع ركعتين بعد الوتر اھ(1/ 341)۔
و فی نخب الأفكار في تنقيح مباني الأخبار في شرح معاني الآثار :ط أي خالف القوم المذكورين جماعة آخرون، و أراد بهم : طاوسًا و علقمة و أبا مجلز و النخعي و الأوزاعي و الثوري و أبا حنيفة و عبد الله بن المبارك و الشافعي و مالكًا و أحمد و أبا ثور ؛ فإنهم قالوا : لا بأس بالتطوع بعد الوتر و لا يكون ذلك ناقضًا للوتر ، و يروى ذلك عن أبي بكر الصديق و عمار و سعد بن أبي و قاص و عائذ بن عمرو و ابن عباس و أبي هريرة و عائشة - رضي الله عنهم -. (5/ 412)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
شفیق الرحمن منور عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 574کی تصدیق کریں
0     455
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • نماز عشاء میں وتر کے بعد دو نفل پڑھنا

    یونیکوڈ   اسکین   نوافل 0
  • گاڑی میں بغیر جہت قبلہ کے نفل نماز پڑھنا

    یونیکوڈ   اسکین   نوافل 0
  • صلاۃ التسبیح جماعت کے ساتھ ادا کرنا

    یونیکوڈ   نوافل 1
  • کیا نفل نماز دو رکعات کے بجائے چار رکعات پڑھی جاسکتی ہے ؟

    یونیکوڈ   نوافل 0
  • شبینہ یا قیام اللیل کی جماعت کا اہتمام کرنا

    یونیکوڈ   نوافل 0
  • ’’یا ساریۃ الجبل‘‘ والا واقعہ کی تحقیق

    یونیکوڈ   نوافل 0
  • عناصر اربعہ سے انسان کی تخلیق کا نظریہ

    یونیکوڈ   نوافل 1
  • مولانا عبید اللہ سندھی کے خیالات و نظریات

    یونیکوڈ   نوافل 0
  • کن کن اعمال کا ایصالِ ثواب ، مردوں کو کیا جاسکتا ہے

    یونیکوڈ   نوافل 0
  • اپریل فول منانے کی شرعی حیثیت

    یونیکوڈ   نوافل 0
  • محرم یا صفر میں کوئی کاروبار، نیا کام یا سفر وغیرہ کرنا

    یونیکوڈ   نوافل 0
  • اشراق، تہجد، اوابین پر دوام کرنا

    یونیکوڈ   نوافل 0
  • خلافت ،وزارت اور نیابت میں تقرری کا اختیار- سورۃ الرعد کی آیت نمبر ۴۳ کی تفسیر

    یونیکوڈ   نوافل 0
  • صلوۃ الحاجت کا طریقہ

    یونیکوڈ   نوافل 0
  • وتر کے بعد دو رکعت نفل پڑھنا- شوال کے چھ روزے رکھنے کا حکم

    یونیکوڈ   نوافل 0
  • نفل نماز بیٹھ کر پڑھنے کا حکم

    یونیکوڈ   نوافل 0
  • کیا طواف کے دوران حطیم میں نفل نماز پڑھ سکتے ہیں؟

    یونیکوڈ   نوافل 0
  • تہجد کا وقت اور تہجد کی رکعات

    یونیکوڈ   نوافل 0
  • نمازِ تہجد کا افضل وقت

    یونیکوڈ   نوافل 0
  • نفل نماز ایک سلام کے ساتھ دو رکعت سے زیادہ پڑھنا

    یونیکوڈ   نوافل 0
  • نفلی عبادات کا شروع کرنے سے لازم ہوجانا- قربانی کے جانور کاگم ہو جانا

    یونیکوڈ   نوافل 0
  • سنن زوائد یا نفل کی چار رکعات میں قعدۂ اولیٰ میں تشہد کے بعددرود شریف اور ادعیۂ ماثورہ پڑھنا

    یونیکوڈ   نوافل 0
  • بارہ ربیع الاول کو روزہ رکھنےکا حکم

    یونیکوڈ   نوافل 1
  • ایک سلام کے ساتھ بارہ رکعت نفل پڑھنا

    یونیکوڈ   نوافل 0
  • سنن و نوافل ترک کرنے کی عادت بنا لینا

    یونیکوڈ   نوافل 0
Related Topics متعلقه موضوعات