ایک آدمی بغیر احرام کے حدودِ حرم سے باہر نکلا اورواپس بغیر احرام کے داخل ہوا ،تو اس پر کیا واجب ہے ؟
واضح ہو کہ جو شخص میقات کے اندر رہتا ہو اور اس کا ارادہ حج و عمرہ کا نہ ہو تو اس کو حدودِ حرم سے باہر نکلنے کے بعد دوبارہ مکہ میں داخل ہونے کے لیے احرام باندھنا لازم نہیں ، اس لیے"حل" میں رہنے والے کسی شخص کے ساتھ اگر ایسی صورت پیش آئے تو اس پر دم وغیرہ کچھ لازم نہیں۔
کما فی الدر المختار : (وحل لأهل داخلها) يعني لكل من وجد في داخل المواقيت (دخول مكة غير محرم) ما لم يرد نسكا للحرج كما لو جاوزها حطابو مكة فهذا (ميقاته الحل) الذي بين المواقيت والحرم اھ ۔
وفی الشامیۃ تحت : (قوله كما لو جاوزها إلخ) يحتمل عود الهاء إلى مكة فتكون الكاف للتمثيل(إلی قوله)ونظيره المكي إذا خرج منها وجاوز المواقيت لا يحل له العود بلا إحرام لكن إحرامه من الميقات بخلاف مريد النسك فإنه من الحل كما علمته اھ (2/478) ۔