جناب عالی میں بہت دکھ کے ساتھ اپنا مسئلہ بیان کر رہا ہوں، مجھے ایک صحیح راستے کی تلاش ہے، میں نے پہلے بھی آپ لوگوں سے اصلاح لی ہے، اور عمل بھی کیا مگر تبدیلی نہیں آئی، مسئلہ یہ ہے کہ میری والدہ کا انتقال ہوگیاہے، تب سے میرے والد مجھ سے ناراض رہتے ہیں میرے والد نے دوسری شادی کرلی ہے، ہم تین بھائی ہیں اور ہمیں اعتماد میں بھی نہیں لیا، اور جو مرضی ہوتی ہے وہ کرتے ہیں ، میں شادی شدہ ہوں اور دو بچے ہیں اور میں بیرونی تعلیم یافتہ ہوں میرے خلاف سب لوگوں نے برا بولا ہے ، جس میں میرا چھوٹا بھائی بھی شامل ہے، اور کہتا ہے جو بولا ہوگا صحیح بولاہوگا، اور وہ اپنی بیوی کو بھی بولتاہے کہ تو دانش کو سنایا کر اگر کچھ بولا جبکہ میں بات بھی نہیں کرتا ، تب بھی لوگ سنادیتے ہیں،میں جھوٹ نہیں بولتا کبھی کسی کی دل آزادی نہیں کرتا اور کاروبار بھی دیانتداری سے کرتا ہوں، اپنے والد کے کاروبار میں مگر وہ ہر جگہ ہر چیز میں سناتے رہتے ہیں، میں بہت تھک گیا ہوں میں نے اپنے والد کو خوش کرنے کے لیے اور راضی کرنے کے لیے سب کچھ کرلیا کبھی زندگی میں حوصلہ افزائی نہیں کی ہمیشہ کچھ نہ کچھ نقص نکالتے ہیں، حتی کہ نوکروں کے سامنے بھی سنادیتے اور برا بول دیتے ہیں ، آج تو حد ہے کہ کتابول دیاہے، باتیں بہت ہیں بتانے کے لیے مگر ڈرتا ہوں، آپ میری بات کو رد نہ کردیں، کہ بہت بڑا مسئلہ بیان کیا ہے، مجھے کیا کرنا چاہیے کیونکہ وہ میری بات سننا بھی نہیں چاہتے اور نہ ہی سمجھنا چاہتے ہیں، جواب کا انتظار ہے؟آپ رابطہ کرسکتے ہیں مزید سمجھنے کے لیے اور اس کے حل کے لیے۔
سائل کا بیان اگر واقعۃ درست ہو تو ان کے والد اور بھائیوں کا مذکور طرز عمل انتہائی غلط ہے، سائل کے والد اور بھائیوں کو چاہیں کہ سائل کی عزت نفس کا خیال رکھیں اور بلاوجہ انہیں بات بات پر ٹوکنے سے اجتناب کرے، جبکہ سائل کو چاہیے کہ والد صاحب کے ادب واحترام کا خیال کرتے ہوئے صبر وتحمل سے کام لے اور اللہ تعالی کی رضا کو سامنے رکھے۔
کما فی ردالمحتار: تحت (قوله والأب يعزر الابن عليه) أي على ترك الصلاة. (الی قولہ) إذا رأى منكرا من والديه يأمرهما مرة، فإن قبلا فبها، وإن كرها سكت عنهما واشتغل بالدعاء والاستغفار لهما فإن الله تعالى يكفيه ما أهمه من أمرهما.الخ ( 4/78)۔