السلام علیکم ! میں آپ سے دوسری شادی کے سلسلے میں ایک مسئلہ کے متعلق رہنمائی چاہتا ہوں ، سوال1: میری شادی کو ماشاء اللہ 12 سال ہوچکے ہیں ، اب دوسری شادی کرنا چاہتا ہوں تو آج سے پہلے میں جو کچھ اپنی پہلی بیوی کو دے چکا ہوں کیا وہ سب کچھ بھی مجھے دوسری بیوی کو دینا پڑے گا؟ انصاف کے طور پر یا نہیں؟سوال2: اگر میں دونوں بیویوں کو ایک ہی گھر میں رکھتا ہوں تو کیا کمروں کے سائز اور کمروں کی تعداد میں بھی انصاف کرنا پڑے گا یا ایک جیسے پورشن میں بھی کہ وہ ایک جیسے ہوں یا نہیں؟ جزاک اللہ۔
واضح ہوکہ قرآن مجید اور احادیثِ مبارکہ میں ایک سے زائد بیویوں کے درمیان عدل اور انصاف کی بڑی تاکید اور کسی ایک کا زیادہ خیال رکھنے اور دوسرے کے حقوقِ واجبہ میں کمی کوتاہی کرنے پر سخت وعیدیں وارد ہوئیں ہیں،چنانچہ حدیثِ شریف میں آتا ہے کہ جس شخص کی دنیا میں دو بیویاں ہوں اور کسی ایک بیوی کا زیادہ خیال رکھے اور دوسری بیوی کے حقوق میں کوتاہی کرے تو قیامت کے روز جب وہ اللہ رب العزت کی بارگاہ میں حاضر ہوگا تو اس کے جسم کے ایک طرف کا حصہ شل اور فالج زدہ ہوگا،البتہ دونوں کے حقوقِ واجبہ ادا کرنے کے بعد کسی ایک کی طرف قلبی میلان زیادہ ہو اور دوسری کی طرف کم ہو تو اس پر کوئی مؤاخذہ نہیں،اس لئے اگر کوئی شخص تمام بیویوں کے درمیان انصاف اور ان کے حقوقِ واجبہ ادا کرنے پر قادر ہو تو اس کے لئے دوسری ،تیسری اور چوتھی شادی کرنے کی اجازت ہے،ورنہ بصورتِ دیگر اس کو دوسری شادی سے احتراز لازم ہے۔
چنانچہ صورتِ مسئولہ میں سائل پر دوسری بیوی کو وہ تمام چیزیں دینا جو پہلی بیوی کو دی گئی ہیں،شرعاً لازم نہیں،البتہ شادی کے بعد دونوں بیویوں کے درمیان تمام چیزوں میں حتیٰ الامکان انصاف کرنا ضروری ہے،کسی ایک کے ساتھ زیادہ خیر خواہی کرنا اور دوسری بیوی پر ظلم کرنا یا اس کے ساتھ نرمی سے پیش نہ آنا شرعاً ناجائز اور گناہ کبیرہ ہے،جس سے احتراز لازم ہے،جبکہ اگر استطاعت ہو تو دونوں بیویوں کے لئے ایک ہی جیسے کمرے و گھر اور ایک ہی طرح کی چیزیں دینا لازم ہے،ورنہ ہر ایک کی ضرورت کے بقدر اگر دے دیا جائے اور دوسری کو نقصان پہنچانا مقصد نہ ہو تو ان شاء اللہ یہ ظلم میں نہیں آئے گا۔
کما فی بدائع الصنائع: وجملة الكلام فيه أن الرجل لا يخلو إما أن يكون له أكثر من امرأة واحدة وإما إن كانت له امرأة واحدة، فإن كان له أكثر من امرأة، فعليه العدل بينهن في حقوقهن من القسم والنفقة والكسوة، وهو التسوية بينهن في ذلك حتى لو كانت تحته امرأتان حرتان أو أمتان يجب عليه أن يعدل بينهما في المأكول والمشروب والملبوس والسكنى والبيتوتة والأصل فيه قوله عز وجل {فإن خفتم ألا تعدلوا فواحدة} [النساء: 3] عقيب قوله تعالى {فانكحوا ما طاب لكم من النساء مثنى وثلاث ورباع} [النساء: 3] أي: إن خفتم أن لا تعدلوا في القسم والنفقة في نكاح المثنى، والثلاث، والرباع، فواحدة ندب سبحانه وتعالى إلى نكاح الواحدة عند خوف ترك العدل في الزيادة، وإنما يخاف على ترك الواجب، فدل أن العدل بينهن في القسم والنفقة واجب، وإليه أشار في آخر الآية بقوله {ذلك أدنى ألا تعولوا} [النساء: 3] أي: تجوروا، والجور حرام، فكان العدل واجبا ضرورة؛ ولأن العدل مأمور به لقوله عز وجل {إن الله يأمر بالعدل والإحسان} [النحل: 90] على العموم والإطلاق إلا ما خص أو قيد بدليل وروي عن أبي قلابة «أن النبي - صلى الله عليه وسلم - كان يعدل بين نسائه في القسمة، ويقول اللهم هذه قسمتي فيما أملك، فلا تؤاخذني فيما تملك أنت، ولا أملك» ، وعن أبي هريرة - رضي الله عنه - عن رسول الله - صلى الله عليه وسلم - أنه قال: «من كان له امرأتان، فمال إلى إحداهما دون الأخرى جاء يوم القيامة، وشقه مائل» ، ويستوي في القسم البكر، والثيب والشابة والعجوز، والقديمة والحديثة والمسلمة والكتابية؛ لما ذكرنا من الدلائل من غير فصل؛ ولأنهما يستويان في سبب وجوب القسم، وهو النكاح، فيستويان في وجوب القسم اھ (2/332)۔