کیا فرماتے علماء کرام و مفتیان عظام درجہ ذیل مسئلہ کے بارے میں کہ کیا مسلمان کا کافروں کے ممالک میں کافروں کے ہاتھ شراب، خنزیر کا گوشت ، آلات موسیقی، گانے بجانے کی کیسٹیں فروخت کرنا جائز ہے یا نہیں؟
واضح رہے کہ کسی مسلمان کے لیے مذکور اشیاء کی خرید وفروخت کہیں پر بھی جائز نہیں ہے، اس لیے ان اشیاء کی خرید وفروخت سے ہر مسلمان کو احتراز کرنا لازم ہے۔
کما فی الدر المختار: (الأول: الخمر وهي النيء) بكسر النون فتشديد الياء (من ماء العنب إذا غلى واشتد وقذف) أي رمى (بالزبد) (إلی قوله) (ولا يجوز بيعها) لحديث مسلم «إن الذي حرم شربها حرم بيعها» اھ (6/ 448)
وفیه أیضا: (وضمن بكسر معزف) (إلی قوله) (صالحا لغير اللهو و) ضمن القيمة لا المثل (بإراقة سكر ومنصف) سيجيء بيانه في الأشربة (وصح بيعها) كلها وقالا لا يضمن ولا يصح بيعها، وعليه الفتوى ملتقى ودرر وزيلعي وغيرها اھ (6/ 211)
و في فتح القدير للكمال ابن الهمام: (باب البيع الفاسد) (وإذا كان أحد العوضين أو كلاهما محرما فالبيع فاسد كالبيع بالميتة والدم والخنزير والخمر) اھ (6/ 402)
و في البحر الرائق شرح كنز الدقائق: بيع المزامير يكره ولا يكره بيع ما يتخذ منه المزامير وهو القصب والخشب وكذا بيع الخمر باطل ولا يبطل بيع ما يتخذ منه وهو العنب كذا في البدائع (إلی قوله) وقد استفيد من كلامهم هنا أن ما قامت المعصية بعينه يكره بيعه وما لا فلا اھ (5/ 154)
تصاویر والے ڈبوں اور پیکٹوں میں پیک شدہ اشیاء کا کاروبار-نسوار اور سگریٹ کا کاروبار
یونیکوڈ کاروبار 0