مجھے ایک ورکر کی حیثیت سے سعود یہ جانے کا موقع ملا، میری اصل منزل "ہیل" تھی جو مدینہ کے قریب450 کلو میٹر اور مکہ سے900 کلومیٹر کے فاصلہ پر ہے، مگر رمضان ہونے کی وجہ سے میں نے عمرہ کرنے کا سوچا اور ملتان سے جدّہ کی ٹکٹ ہوئی، میرا ارادہ تھا کہ میں پہلے جدہ جاؤں گا وہاں ایک آدھ دن آرام کروں گا پھر تنعیم جا کر احرام باندھوں گا، میں قریب آدھی رات اور آدھا دن جدّہ میں دوست کے پاس رہا پھر وہاں سے عمرہ کے لیے روانہ ہوا، میں حدود حرم میں بغیر احرام داخل ہوا،پھر مسجدِ عائشہ (رضی اللہ عنھا )پر واپس آکر احرام باندا پھرعمرہ کرکے جدہ کی بجائے "ہیل" روانہ ہوا، کیا میرےلیے تنعیم میقات ہوسکتی تھی یا مجھ پر دم واجب ہو گا؟
سوال میں ذکر کر دہ وضاحت کے مطابق سائل کے لیے تنعیم میقات بن گئی، لہذا اس پر کوئی دم لازم نہیں۔
كما فی غنية الناسك : على مسلم مكلف أو حر كذلك أراد الحج أو العمرة وجاوز وقته غير محرم، ثم أحرم أو لا فعليه الاثم والعود الى وقته كالآفاقي، وان لم يعد الى وقته فعليه الاثم والدم بالاتفاق (64)۔