میں اور میرے دوست کا مشترکہ کپڑے کی دکان ہے، اس میں ہمارے ساتھ تیسرا دوست بھی ہمارے حصہ کے برابر پار نٹر بننا چاہتا ہے، مگر اس کے پیسے حلال سے نہیں وہ جوا کھیلتا ہے کرکٹ پر، تو کیا ہم اس کو اپنے ساتھ شریک کر سکتے ہیں؟
سائل کے دوست کی غالب آمدنی اگر حرام کی نہ ہوتو اس کو کاروبار میں شریک کرنا شرعاً درست ہے ، البتہ اگر غالب آمدنی حرام کی ہو تو اس کے ساتھ اکھٹے کا روبار کرنے سے احتراز لازم ہے۔
ففي الفتاوى الهندية: أهدى إلى رجل شيئا أو أضافه إن كان غالب ماله من الحلال فلا بأس إلا أن يعلم بأنه حرام فإن كان الغالب هو الحرام ينبغي أن لا يقبل الهدية ولا يأكل الطعام إلا أن يخبره اھ (5/ 342)۔ والله اعلم
تصاویر والے ڈبوں اور پیکٹوں میں پیک شدہ اشیاء کا کاروبار-نسوار اور سگریٹ کا کاروبار
یونیکوڈ کاروبار 0