میرے والد اور چچا کا کاروبار ہے، میں اور میرے بھائی نے 15 سے 20 سال محنت کی ہے ، اب چچا اور میرے والد الگ ہو رہے ہیں، تو کیا اس کاروبار میں ہم کو کام کا حصہ ملنا چاہیئے ؟ میں نے ایک عالم سے پوچھا ،تو انہوں نے کہا کہ ملنا چاہیئے، کیونکہ آپ نے کام کیا ہے، میری عمر 41 سال ہے، میرے بھائی کی عمر 46 سال ہے، ہمارے بچے شادی کے لائق ہیں، ہماری پوری جوانی اس فیملی کاروبار کو آگے لے جانے میں گزر چکی ہے، ہم بھائیوں نے کبھی چچا سے طے نہیں کیا، کاروبار میں پہلی محنت میرے والد صاحب کی ، دوسری محنت میرے چچا اور والد دونوں کی اور تیسری محنت میری اور میرے بھائی کی ہے، چچا کے بچوں نے کوئی کام نہیں کیا، صرف مزے کرتے ہیں، از راہِ کرم اس حوالے سے میری راہ نمائی فرمائیں۔
سائل اور اس کے بھائی کی حیثیت اس کا روبار میں شریک اور پارٹنر کی نہیں، بلکہ ایک معاون کی ہے، اس لئے سائل اور اس کے بھائی کا اصل کاروبار میں تو حصہ نہیں، اجرت مثل لینے کا حق ہے، اس سے زیادہ کا مطالبہ درست نہیں، جس سے احتراز لازم ہے۔
في الدر المختار: (وما حصله أحدهما بإعانة صاحبه فله ولصاحبه أجر مثله بالغا ما بلغ عند محمد. وعند أبي يوسف لا يجاوز به نصف ثمن ذلك) (4/ 325)-
تصاویر والے ڈبوں اور پیکٹوں میں پیک شدہ اشیاء کا کاروبار-نسوار اور سگریٹ کا کاروبار
یونیکوڈ کاروبار 0