السلام علیکم!
میری شادی کو سات سال ہو گئے ہیں، الحمد لله دو بچے بھی ہیں، میں اپنی بیوی کے ساتھ ہمبستری کرنے کو بولتا ہوں تو وہ منع کرتی ہے، بولتی ہے کہ ہفتہ میں دو بار کرو، میں بولتا ہوں جب بھی میرا دل کرے گا تم مجھے منع مت کرو، وہ مجھے بولتی ہے کہ تم باہر کسی اور لڑکی کے پاس جاؤ سیکس کرو، میں اتنا سیکس نہیں دے سکتی ہوں تو اس بات پر ہم دونوں کا جھگڑا ہوتا ہے ،شریعت کے مطابق مجھے کیا کرنا چاہیئے ؟
اگر چہ سائل کا حسب ضرورت اپنی بیوی سے ایامِ حیض و نفاس کے علاوہ کسی بھی وقت جماع اور ہمبستری کرنا جائز اور درست ہے اور بیوی کا بلاوجہ انکار کرنا جائزنہیں، مگر سائل کو بیوی کے بھی مزاج اور میلان کا خیال کرنا چا ہیئے تاکہ باہم اختلاف و نزاع تک نوبت نہ پہنچے۔
کما في مرقاة المفاتيح: (وعن أبي هريرة قال: قال رسول الله - صلى الله عليه وسلم - «إذا دعا الرجل امرأته إلى فراشه» ) : فيه إيماء إلى جواز تعدد الفراش، ويحتمل أن يكون كناية عن الميلان إلى الاجتماع قال تعالى، جل جلاله {هن لباس لكم وأنتم لباس لهن} [البقرة: 187] وفيه إيماء إلى التستر حالة الجماع. (فأبت) : أي: امتنعت من غير عذر شرعي (فبات) : أي: زوجها (غضبان) : أي: عليها كما في رواية (لعنتها الملائكة) : لأنها كانت مأمورة إلى طاعة زوجها في غير معصية قيل: والحيض ليس بعذر في الامتناع لأن له حقا في الاستمتاع بما فوق الإزار عند الجمهور وبما عدا الفرج عند جماعة. (حتى تصبح)۔اھ (6/393)