میری شادی کے آٹھ سال ہو گئے ہیں ، میری پسند کی شادی ہے، میرے شوہر خود سے میرے پاس نہیں آتا، نہ تعریف کرتے ہیں، میں خود جاؤں تو بے عزتی کرتے ہیں، کہتا ہے تھکا ہوا ہوں، کبھی گالیاں اور دھکے بھی دیتے ہیں، کبھی ہم بستری میں دس یا پندرہ دن کا گیپ ہو جاتا ہے، کبھی خود سے ہاتھ تک نہیں پکڑتے ، پیار نہیں کرتے ، میرے تین بچے ہیں ، کبھی دل کرتا ہے کہ ان کو چھوڑ دوں ، اکثر راتیں رو کر گزرتی ہیں، مجھے لگتا ہے میں ان کو نظر نہیں آتی ۔
سائلہ کا بیان اگر درست اور حقیقت پر مبنی ہو، اس میں کسی طرح کی غلط بیانی سے کام نہ لیا ہو تو سائلہ کے شوہر کا مذکور طرز عمل قطعاً غلط و نامناسب ہے، جس کی وجہ سے وہ وہ گناہ گار ہو ر رہے ہیں، اس کو چاہیے کہ بیوی کے نان ونفقہ وغیرہ جائز حقوق ادا کرے ، اور پیار و محبت کے ذریعہ زندگی خوشگوار بنانے کی کوشش کرے اور سائلہ کو بھی چاہیے کہ اپنے شوہر کے لیے زیب و زینت کرے اور اس کا دل جیتنے کی کوشش کرے، تا کہ گھریلو زندگی تلخ نہ ہو جائے اور کسی کا حق بھی ضائع نہ ہو۔
ففي مشكاة المصابيح عن عائشةؓ قالت: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «خيركم خيركم لأهله وأنا خيركم لأهلي وإذا مات صاحبكم فدعوه» . رواه الترمذي. والدارمي اھ (2/ 971)
و في الدر المختار: وشرعا: (هي الطعام والكسوة والسكنى) وعرفا هي: الطعام اھ (3/ 572)
و في مشكاة المصابيح: وعن أبي هريرة قال: قيل لرسول الله صلى الله عليه وسلم: أي النساء خير؟ قال: «التي تسره إذا نظر وتطيعه إذا أمر ولا تخالفه في نفسها ولا مالها بما يكره» . رواه النسائي والبيهقي في شعب الإيمان اھ (2/ 976) واللہ اعلم بالصواب