میرا نکاح ہو چکا ہے اور رخصتی میں ابھی ایک سال باقی ہے، میری اپنی بیوی سے بات چیت ہوتی ہے، مسئلہ یہ ہے کہ میری بیوی کا تعلق ایک ماڈرن فیملی سے ہے اور ان کے رہنے کا طریقہ ہم سے کافی مختلف ہے، اس کی دوستی لڑکیوں کے علاوہ لڑکوں کے ساتھ بھی ہے اور وہ بلا تکلف ان سے بات کرتی ہے، اس بات پر میری اس سے کافی لڑائی ہو چکی ہے، میں نے اپنی بیوی سے بات چیت اس بناء پر ختم کر دی ہے کہ جب رخصتی ہو جائے گی تو وہ ہمارے گھر میں آکر سیٹ ہو جائے گی، جبکہ اگر میں نے اسی طرح بات چیت جاری رکھی تو مزیدلڑائی ہونے کا خدشہ ہے، کیا میرا اس طرح رخصتی سے قبل بات چیت ختم کرنا غلط ہے ؟
رخصتی سے قبل زیادہ بات چیت سے رشتہ ٹوٹنے کا اندیشہ ہو تو وقتی طور پر تنبیہ کیلئے بات چیت ختم کرنے کی بھی گنجائش ہے، مگر بیوی کے مزاج کو سمجھ کر اور پھر اسے سمجھا بجھا کر دین کی طرف راغب کیا جائے،اور اس سلسلے میں جلد بازی سے بھی کام نہ لیا جائے۔
کما في الفقه الإسلامي وأدلته: للزوج الحق في تأديب زوجته عند نشوزها أو عصيانها أمره بالمعروف لا في المعصية؛ لأن الله عز وجل أمر بتأديب النساء بالهجر والضرب عند عدم طاعتهن۔اھ (9/ 6854)