السلام علیکم !
میں یہ جاننا چاہتا ہوں کہ کیا نکاح کےبعد مانعِ حمل دوائی استعمال کرنے کی اجازت ہے؟ آیا "ساتھی"(غبارہ) کے ساتھ بیوی سے صحبت کی جاسکتی ہے؟ ڈیلیوری کو ایک یا دو سال کیلئے ملتوی کرنے اور بیوی کی دوشیزہ اور کنوارہ پن سے مزید لطف لینے کی غرض سے،کیا اسلام میں اس طرح کی مانعِ حمل چیز کو استعمال کرنے کی اجازت ہے؟ یا پھر ہمبستری کے بعد فوراً اگلے سال ڈیلیوری ہوجانا اچھا ہوگا؟ اس کے متعلق کوئی دینی کتاب تجویز فرمائیں ۔
کسی معقول عذر کی وجہ سے عارضی طور پر مانع حمل دوا یا میاں بیوی کی باہمی رضامندی سے "ساتھی غبارہ" یا کسی دوسری مانع حمل کا اختیار کرنا اگرچہ جائز ہے،مگر بلاوجہ اس قسم کی حرکات سے احتراز بہتر ہے۔
کما فی الفقه الاسلامی وأدلته: وبناء علیه یجوز استعمال موانع الحمل الحدیثة کالحبوب وغیرھا لفترة مؤقتة دون أن یترتب علیه استئصال امکان الحمل وصلاحیة الانجاب قال الزرکشی: یجوز استعمال الدواء لمنع الحبل فی وقت دون وقت کالعزل ولایجوز التداوی لمنع الحبل بالکلیة اھ (3/555)۔