میں اور میرے بھائی نے اپنے ماموں کے ہاں 10 سال کام کیا ،پھر ہم نے وہاں سے الگ ہو کر اپنی جگہ لے لی، اور ہم جب تک اپنے ماموں کے ہاں بیٹھے رہے، ہم نے نہ جگہ کا کرایہ دیا ،اور نہ یوٹیلٹی بل دیے، اب ہمارے ماموں ہم سے یہ مطالبہ کر رہے ہیں کہ میں نے ۱۱۸۱ گرام سونا بیچ کر یہ یوٹیلٹی بل ادا کیے، لہذا تم وہ سب دو، لیکن جب انہوں نے ۱۱۸۱ گرام سونا بیچا تھا ،تو اس وقت اُس کی مالیت 384914 روپے تھی ،جو اب بڑھ کر 5000000 تک پہنچ گئی ہے ۔ اب آپ بتائیں کہ ہم انہیں 364914 روپے دیں، یا 5000000 روپے ۔ یہ سونا بیچنے کا دعویٰ ہمارے ماموں نے اس لئے کیا ہے کہ ہمارا زیور بنانے کا کام ہے ،اور اُس کی مزدوری ہمیں سونے کی ہی شکل میں ملتی ہے۔
اگر سائل اور اس کے بھائی کا ماموں سے کوئی معاہدہ ہوا تھا ،جس کے تحت وہ ان کی دوکان پر کام کرتے رہے، تو اب اسی کے مطابق فیصلہ ہو گا، وہ معاہدہ خواہ زبانی ہوا ہو یا تحریری۔ اگر کوئی معاہدہ نہیں تھا، بلکہ محض تبرعًا ماموں نے ان کو اپنے پاس بیٹھنے کی اجازت دیدی تھی ،تو اس صورت میں ماموں کا مطالبہ درست نہیں۔ مگر سائل کو چاہیئے کہ احسان کا بدلہ احسان سےدینے کی کوشش کرے۔
ففي الهداية شرح البداية: العارية جائزة لأنها نوع إحسان (إلی قوله) وهي تمليك المنافع بغير عوض وكان الكرخي رحمه الله يقول هي إباحة الانتفاع بملك الغير لأنها تنعقد بلفظة الإباحة ولا يشترط فيها ضرب المدة ومع الجهالة لا يصح التمليك اھ (3/ 220)-
وفي بذل المجهود: عن جابر بن عبد الله قال: قال رسول الله - صلى الله عليه وسلم -: من أعطى عطاءً فوجد) غنى من المال (فَلْيَجْزِ به) أي ينبغي له أن يجزي العطاء، (فإن لم يجد) مالًا (فَلْیثْنِ به، فمن أثنى به فقد شكره) أي أدى شكر عطائه اھ (13/ 241)۔
تصاویر والے ڈبوں اور پیکٹوں میں پیک شدہ اشیاء کا کاروبار-نسوار اور سگریٹ کا کاروبار
یونیکوڈ کاروبار 0