محترم جناب مفتی صاحب
۱: عموماً میں خریداری کے لئے کریڈٹ کارڈ استعمال کرتا ہوں اور 45 دن تک مارک اپ نہیں ہوتا ، 46 ویں روز سے اصل رقم پر سود لینا شروع کرتے ہیں ،یعنی اگر کوئی چیز 200 روپے کی ہو , 45 دن تک مارک اپ لیتی ہے، لہذا اس دوران لین دین اور ادائیگی کے اندر کسی قسم کا سود نہیں ہوا کرتا، لیکن 45 دن کے بعد سود شروع ہوتا ہے ، لہذا میں سود سے بچنے کے لئے دورانیہ کے اندر ہی خریداری کرتا ہوں ۔ کیا یہ صحیح ہے ؟
۲: علاوه ازیں بعض دکاندار کریڈٹ کارڈ کے ذریعہ خریداری کرتے وقت جیسے 200 روپے کی چیز ہو تو 10 روپے اضافی وصول کر لیتے ہیں اور اسے دکانداری چارج کہلاتے ہیں ، اس کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے ؟
۳:میں جانتا ہوں کہ جب کریڈٹ کارڈ کے قواعد پر پیسہ واپس لے لیا جاتا ہے تب سود میں ملوث ہونا پڑتا ہے، اس لئے کہ وہ لوگ سروس چارج کے نام پر 500 روپے وصول کر لیتے ہیں اور اگلے دن سے سود ملانا شروع کر دیتے ہیں ۔
(3/2/1): کریڈٹ کارڈ کے حصول میں اگر کسی قسم کی دھوکہ بازی یا سودی معاملہ نہ کیا جائے ،تب تو اس کا حصول اور اس کے ذریعہ خرید و فروخت ہر دو امور کرنے کی اجازت ہے،اور اس سے بھی احتراز بہتر ہے، اور اس کے ذریعہ خریداری پر دوکاندار کا سروس چارجز اگر طے کر لیا جائے ، تو اس کی بھی اجازت ہے، تاہم اگر اس میں سودی معاملہ بصورت معاہدہ کرنا پڑتا ہو اور کا حصول بھی مجبوری اور ضروری ہو تو متعینہ مدت سے پہلے متعلقہ ادارے میں اس کی مالیت جمع کرانا لازم ہے، تاکہ یہ مکمل سودی معاملہ میں داخل نہ ہو۔ اسی طرح اس کے ذریعہ نقد رقم نکلوانے سے بھی احتراز لازم ہے ۔
کریڈٹ کارڈ کا استعمال اور اس پر ملنے والے پوائنٹس و ڈسکاؤنٹ وغیرہ استعمال کرنےکا حکم
یونیکوڈ کریڈٹ کارڈ 0