روزہ کی حالت میں کسی نے اگر شیو کے بعد کلون یا روم فریشنر سونگھ لیا ہوتو کیا حکم ہے؟اسی طرح جرنیٹر یا کوئی کام کرتے ہوئے اگر اس کا دھواں یا بس کا دھواں ناک میں چلا جائے تو کیا حکم ہوگا؟بارش کے وقت ہونٹ بند ہونے کے باوجود تری محسوس ہو منہ کے اندر،اور فرق محسوس انسان نہ کرسکےکہ آیا تری حلق کے اندر گئی ہےیا نہیں تو کیا حکم ہوگا؟
روزہ کی حالت میں خوشبو یا بدبو ناک میں جانے سے روزہ میں کوئی فرق نہیں آتا،اسی طرح بارش کے قطرے اگر ہونٹوں پر لگ جائیں،تو اس کی وجہ سے بھی روزہ پر کوئی اثر نہیں پڑتا،البتہ دھواں اگر حلق سے نیچے اتر جائے ،تو اس سے روزہ فاسد ہو جاتا ہے،سوائے اس دھواں اور گردوغبار کے جن سے بچنا عادت کے طور پر ممکن نہ ہو،جیسے بس وغیرہ کا دھواں ۔
کما في الشامیہ: لا يكره للصائم شم رائحة المسك والورد ونحوه مما لا يكون جوهرا متصلا كالدخان اھ(2/417) ۔
وفي الدر المختار: (أو دخل حلقه غبار أو ذباب أو دخان) ولو ذاكرا استحسانا لعدم إمكان التحرز عنه، ومفاده أنه لو أدخل حلقه الدخان أفطر أي دخان كان ولو عودا أو عنبرا له ذاكرا لإمكان التحرز عنه فليتنبه له كما بسطه الشرنبلالي اھ(2/395)۔
شدید تھکن اور چکر آنے کی وجہ سے رمضان کا روزہ توڑنے کا کفارہ ادا کرنا
یونیکوڈ روزے کی قضاء و کفارہ 0