جناب مفتی صاحب !ایک مسئلہ میں آپ کی مدد کا طلب گار ہوں ! حضرت 15 شعبان کو لے کر الگ الگ باتیں سننے کو ملتی ہیں کچھ حضرات کا کہنا ہے کہ اس دن پورے سال کا حساب و کتاب ہوتا ہے گناہ معاف ہوتے ہیں، زندگی اور موت کے فیصلہ ہوتے ہیں اور اس دن عبادت کرنا یا روزے رکھنا ان سب کی اسلام میں کیا حقیقت ہے ؟برائے مہربانی حدیث سے میری راہ نمائی فرمائیں۔ آپ کے جواب کا طلب گار۔
درج ذیل اور اس جیسی دوسری روایات حدیث کی بناء پر پندرویں شعبان کی رات کے فضائل سے انکار ممکن نہیں ،اور بعض رویات سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہی رات ہے، جس میں سال بھر کے دوران موت وحیات اور رزق وغیرہ جیسے اہم امور کے فیصلے فرما کر فرشتوں کے سپرد کیے جاتے ہیں، اور خصوصی طور پر رب کریم اپنے بندوں کی طرف متوجہ ہو کر ان کی بخشش فرماتے ہیں ،اسی نسبت سے غالباً اسے شب برات بھی کہا جاتا ہے ، تاہم اس سب کے باوجود اس رات میں کوئی خاص اور اجتماعی عبادت منقول نہیں، البتہ عبادت کی رات ہے۔ جو عبادت بآسانی اور بخوبی کی جا سکتی ہو اس سے دریغ نہ کیا جائے اور دیگر لغویات وغیرہ سے احترار کیا جائے۔
كما في مشكاة المصابيح: عن علي رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " إذا كانت ليلة النصف من شعبان فقوموا ليلها وصوموا يومها [ص:410] فإن الله تعالى ينزل فيها لغروب الشمس إلى السماء الدنيا فيقول: ألا من مستغفر فأغفر له؟ ألا مسترزق فأرزقه؟ ألا مبتلى فأعافيه؟ ألا كذا ألا كذا حتى يطلع الفجر ". رواه ابن ماجه (1/ 409)
وفی مشكاة المصابيح: وعن عائشة قالت: فقدت رسول الله صلى الله عليه وسلم ليلة فإذا هو بالبقيع فقال " أكنت تخافين أن يحيف الله عليك ورسوله؟ قلت: يا رسول الله إني ظننت أنك أتيت بعض نسائك فقال: إن الله تعالى ينزل ليلة النصف من شعبان إلى السماء الدنيا فيغفر لأكثر من عدد شعر غنم كلب " رواه الترمذي (1/ 406)
سنن زوائد یا نفل کی چار رکعات میں قعدۂ اولیٰ میں تشہد کے بعددرود شریف اور ادعیۂ ماثورہ پڑھنا
یونیکوڈ نوافل 0