میں نے ایک کاروبار میں پیسے لگائے ہوئے ہیں اس کا ماہانہ منافع طے کیا ہوا ہے، لیکن میں نے فی کلو کے حساب سے طے کیا ہوا ہے مثال کے طور پر میں نے پانچ روپے فی کلو طے کیا ہوا ہے اور یہ بھی طے کیا ہوا ہے کہ کم از کم 100 کلو گرام مہینہ میں سیل کرنا ہے تو اس حساب سے جو بھی رقم بنتی ہے وہ میں لیتا ہوں نقصان کا ذمہ دار میں نہیں ہوں، کیا یہ شرعاً جائز ہے؟
سائل کا مذکور کاروبار میں ماہانہ مخصوص رقم میں منافع متعین کرنا اور نقصان کی صورت میں مطلقاً اپنے آپ کو بری الذمہ قرار دینا جائز نہیں، البتہ اس کاروبار کو درست کرنے کی یہ صورت ہو سکتی ہے ، کہ منافع فیصد کے اعتبار سے باہمی رضا مندی سے طے کر لیا جائے۔
ففي الفتاوى الهندية: وأن يكون الربح جزءا شائعا في الجملة لا معينا فإن عينا عشرة أو مائة أو نحو ذلك كانت الشركة فاسدة كذا في البدائع اھ (2/ 302)
و في الهداية شرح البداية: قال ولا تجوز الشركة إذا شرط لأحدهما دراهم مسماة من الربح لأنه شرط يوجب انقطاع الشركة فعساه لا يخرج إلا قدر المسمى لأحدهما ونظيره في المزارعة اھ (3/ 9)
و في بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع: والوضيعة على قدر المالين متساويا ومتفاضلا؛ لأن الوضيعة اسم لجزء هالك من المال فيتقدر بقدر المال اھ (6/ 62)
تصاویر والے ڈبوں اور پیکٹوں میں پیک شدہ اشیاء کا کاروبار-نسوار اور سگریٹ کا کاروبار
یونیکوڈ کاروبار 0