کیا حج اور عمرہ کے لیے احرام باندھنے کے بعد ناپاکی کے بغیر نہا سکتے ہیں جیساکہ ہم عام دنوں میں نہاتے ہیں ؟ کیا میرے بھتیجے اور بھانجے میری بیوی کے لیے نا محرم ہیں؟ جن سے شرعاً پردہ لازم ہوگا؟اسی طرح میری بیوی کی بھتیجیاں اور بھانجیاں میرےلیے نامحرم ہو ں گی جن سے پردہ لازم ہے؟
حالتِ احرام میں ناپاکی کے علاوہ بھی نہا سکتے ہیں ، البتہ اس حالت میں خوشبودارصابن وغیرہ کا استعمال درست نہیں۔ جبکہ سائل کے بھتیجے اور بھانجے سائل کی بیوی کے لیے نا محرم ہیں،اسی طرح سائل کے لیے سائل کی بیوی کی بھتیجیاں اور بھانجیاں بھی نا محرم ہیں شرعاً ان پر پردہ لازم ہے ۔
کماقال:يَاأَيُّهَاالنَّبِيُّ قُلْ لِأَزْوَاجِكَ وَبَنَاتِكَ وَنِسَاءِالْمُؤْمِنِين يُدْنِينَ عَلَيْهِنَّ مِنْ جَلَابِيبِهِنَّ ذَلِكَ أَدْنَى أَن يُعْرَفْنَ فَلَايُؤْذَيْنَ وَكَانَ اللَّه غَفُورًارَحِيمًا (الاحزاب /59)۔
قال العلامۃ تحت ھذہ الاٰیۃ : فغطى وجهه ورأسه وأبرز عينه اليسرى وقال عكرمة تغطي ثغرة نحرها بجلبابها تدنيه عليها. اھ (6/425)۔
و فی بدائع الصنائع : ولا بأس بأن يحتجم المحرم، ويفتصد، ويبط القرحة، ويعصب عليه الخرقة، ويجبر الكسر، وينزع الضرس إذا اشتكى منه، ويدخل الحمام ويغتسل(إلی قوله)وأما الاغتسال فلما روي «أن رسول الله - صلى الله عليه وسلم - اغتسل وهو محرم وقال: ما نفعل بأوساخنا» .فإن غسل رأسه ولحيتهالخطمي فعليه دم في قول أبي حنيفة، وعند أبي يوسف ومحمد عليه صدقة لهما أن الخطمي ليس بطيب، اھ (2/191)۔