محترم جناب مفتی صاحب! السلام علیکم!
مروّجہ طریقہ سے کار خریدنے کے بارے میں معلوم کرنا ہے، یعنی پہلے آپ کمپنی سے ایک کار بُک کریں گے، اور کمپنی 3یا6 ماہ بعد گاڑی آپ کے حوالہ کریگی ، لیکن قبضہ کے وقت کی مارکیٹ کی قیمت پر آپ کو خریدنا ہوگا ،جو اصل قیمت سے بڑھ کر ہے ،جسے ’’OWN‘‘ ذاتی/ حقیقی قیمت کہا جاتا ہے ۔
کیا یہ کاروبار جائز ہے ؟ میرے پاس پیسہ ہے، اسے بینک میں جمع کرنے کی ضرورت نہیں اور میرا صرف کرنٹ اکاؤنٹ ہے ۔
صورتِ مسئولہ میں کمپنی اور گاہک کے درمیان ہونے والا پہلہ معاملہ مستقل عقد ِبیع نہ ہو، بلکہ وہ وعدہ بیع ہو ،اور جب گاڑی تیار ہو کر مارکیٹ میں آجائے، تو اس وقت نئے سرے سے دوبارہ عقدِ بیع کر لیا جائے ،تو یہ معاملہ شرعاً بھی جائز اور درست ہوگا، ورنہ نہیں ۔
کما في حاشية ابن عابدين: وفي جامع الفصولين أيضا لو ذكرا البيع بلا شرط ثم ذكرا الشرط على وجه العقد جاز البيع ولزم الوفاء بالوعد إذ المواعيد قد تكون لازمة فيجعل لازما لحاجة الناس اھ (5/ 84)۔
تصاویر والے ڈبوں اور پیکٹوں میں پیک شدہ اشیاء کا کاروبار-نسوار اور سگریٹ کا کاروبار
یونیکوڈ کاروبار 0