زید(پاکستانی ) مکہ میں کام کی خاطر مقیم ہے ،مسئلہ معلوم نہ ہونے کی وجہ سے زید نے حرم سے احرام باندھ کر عمرہ کر لیا،کیا عمرہ ہو گیا ؟دم لازم آئے گا ؟
مسمّٰی زید مکہ میں مقیم ہونے کی وجہ سے بحکم ِمکّی ہے اور اہل مکہ کا حکم یہ ہے کہ عمرہ کے لیے حل سے احرام باندھیں گے،اب اگر مسمٰی زید نے حدود ِحرم کے اندر سے احرام باندھا ہو تو اگرچہ عمرہ ہو چکا، مگر حدودِ حرم کے اندر سے احرام باندھنےکی وجہ سے اسپر دم لازم ہوگا ۔
کمافی الہندیة: ووقت المكي للإحرام بالحج الحرم، وللعمرة الحل كذا فی الكافی ، فی خرج الذي يريد العمرة إلى الحل من أي جانب شاء كذا فی المحيط اھ (1/ 221)۔
و فی فتح القدیر : (والمتمتع إذا فرغ من عمرته ثم خرج منا لحرم فأحرم ووقف بعرفة فعليه دم) ؛ لأنه لما دخل مكة وأتى بأفعال العمرة صار بمنزلة المكي، وإحرام المكي من الحرم لما ذكرنا فی لزمه الدم بتأخيره عنه اھ (3/ 114)۔