بالوں کی پیوندکاری کروانا جائز ہے؟ اس سے نماز ہوجاتی ہے؟
اگر کسی شخص کے اپنے بال اکھاڑ کر اور انہیں قابلِ کاشت بناکر دوبارہ لگادیا جائے تو اگرچہ اس کی گنجائش معلوم ہوتی ہے، مگر کسی دوسرے انسان کے بال لگوانا ان کے عظمت واحترام اور خنزیر کے بال اس کے نجس العین ہونے کی بناء پر ناجائز اور حرام ہیں، اس لیے ان دونوں قسموں کے بال لگوانے سے احتراز لازم ہے، البتہ ان دونوں کے علاوہ کسی دوسرے حلال جانور کے بال لگوالیے جائیں تو اس میں شرعاً کوئی قباحت نہیں۔
غسل اور طہارت میں یہ تفصیل ہے کہ اگر وہ بال جسم کے ساتھ مستقل پیوست ہوجائیں اور وہ بآسانی جسم سے الگ نہ ہوسکتے ہوں تو وضو کے دوران ان پر مسح کرنا جائز ہے، اسی طرح غسل میں بھی ان پر پانی بہانا کافی ہے اور اگر یہ بال جسم کے ساتھ مستقل پیوست نہ ہوں، بلکہ عارضی طور پر ہوں کہ جب چاہیں لگالیں اور جب چاہیں ہٹادیں تو اس صورت میں ان پر مسح کرنا جائز نہیں، بلکہ مصنوعی بالوں کو ہٹاکر اصل کھال پر مسح کرنا ضروری ہوگا اور ان بالوں کے ہوتے ہوئے اگر اصل جسم تک پانی نہ پہنچے تو ایسی صورت میں فرض غسل بھی نہیں ہوگا، بلکہ ان کو ہٹاکر غسل کرنا ضروری ہوگا۔
فی الهدایة: ولا یجوز بیع شعور الإنسان ولا الإنتفاع به لأن الآدمی مكرم. الخ (ج۳، ص۵۵)
وفی الهندیة: الإنتفاع بأجزاء الآدمی لم یجز قبل للنجاسة وقیل لكراهة هو الصحیح. الخ (ج۵، ص۳۵۴)