السلام علیکم! میں آپ سے یہ سوال پوچھنا چاہتا ہوں کہ آیا شوہر اپنی بیوی کو کمزوری کی وجہ سے خون دے سکتا ہے یا نہیں؟ قرآن و حدیث کی روشنی میں وضاحت فرمائیں۔ شکریہ!
بلا ضرورت خون کا عطیہ کسی کے لیے بھی جائز نہیں، اس سے احتراز لازم ہے، البتہ بوقتِ ضرورت مثلاً مریض کی جان کو خطرہ ہو یا کسی عضو کے تلف ہونے کا اندیشہ ہو اور خون دئیے بغیر صحت کا امکان بھی نہ ہو تو ماہر معالج کے مشورہ سے خون بھی دیا جاسکتا ہے، پھر یہ خون چاہے شوہر یا کسی دوسرے کا ہو، اسے لگانے میں شرعاً کوئی حرج نہیں، لگاسکتے ہیں، جائز ہے۔
كما فی الهندیة: یجوز للعلیل شرب الدم والبول وأكل المیتة للتداوی إذا أخبره طبیب مسلم أن شفاءه فیه ولم یجد من المباح ما یقوم مقامه وإن قال الطیب یتعجل شفاءك فیه وجهان. الخ (ج۵، ص۳۵۵)