اعضاء کی پیوند کاری

شوہر کا بیوی کو خون عطیہ کرنا

فتوی نمبر :
10726
| تاریخ :
0000-00-00
معاشرت زندگی / علاج و معالجہ / اعضاء کی پیوند کاری

شوہر کا بیوی کو خون عطیہ کرنا

السلام علیکم! میں آپ سے یہ سوال پوچھنا چاہتا ہوں کہ آیا شوہر اپنی بیوی کو کمزوری کی وجہ سے خون دے سکتا ہے یا نہیں؟ قرآن و حدیث کی روشنی میں وضاحت فرمائیں۔ شکریہ!

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

بلا ضرورت خون کا عطیہ کسی کے لیے بھی جائز نہیں، اس سے احتراز لازم ہے، البتہ بوقتِ ضرورت مثلاً مریض کی جان کو خطرہ ہو یا کسی عضو کے تلف ہونے کا اندیشہ ہو اور خون دئیے بغیر صحت کا امکان بھی نہ ہو تو ماہر معالج کے مشورہ سے خون بھی دیا جاسکتا ہے، پھر یہ خون چاہے شوہر یا کسی دوسرے کا ہو، اسے لگانے میں شرعاً کوئی حرج نہیں، لگاسکتے ہیں، جائز ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

كما فی الهندیة: یجوز للعلیل شرب الدم والبول وأكل المیتة للتداوی إذا أخبره طبیب مسلم أن شفاءه فیه ولم یجد من المباح ما یقوم مقامه وإن قال الطیب یتعجل شفاءك فیه وجهان. الخ (ج۵، ص۳۵۵)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 10726کی تصدیق کریں
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • شوہر کا بیوی کو خون عطیہ کرنا

    یونیکوڈ   اسکین   اعضاء کی پیوند کاری 0
  • بالوں کی پیوند کاری جائز ہے یا نہیں ؟ وضو اور نماز ہوجائے گی ؟

    یونیکوڈ   اسکین   اعضاء کی پیوند کاری 0
  • مسلمان کیلئے کافر کے خون کا عطیہ

    یونیکوڈ   اسکین   اعضاء کی پیوند کاری 0
  • حسن میں اضافہ کے لیے اعضاء کی سرجری کرانا جائز ہے ؟

    یونیکوڈ   اعضاء کی پیوند کاری 0
  • وگز یا آرٹیفیشل ہیئر لگا کر نماز پڑھنے کا حکم

    یونیکوڈ   اعضاء کی پیوند کاری 0
Related Topics متعلقه موضوعات