اعضاء کی پیوند کاری

غیر مسلم شیعہ وغیرہ کو خون عطیہ کرنا کیسا ہے؟

فتوی نمبر :
17735
| تاریخ :
معاشرت زندگی / علاج و معالجہ / اعضاء کی پیوند کاری

غیر مسلم شیعہ وغیرہ کو خون عطیہ کرنا کیسا ہے؟

میرا سوال یہ ہے کہ کیا ہم کسی غیر مسلم (شیعہ وغیرہ) کو اپنا خون عطیہ دے سکتے ہیں ؟مہربانی کر کے تفصیل سے وضاحت فرمائیں۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

جی ہاں! بوقت ضرورت انسانی جان بچانے کے لیے غیرمسلم کو بھی خون کا عطیہ کیا جا سکتا ہے، جبکہ اس کی جان بچانے کے لیے کوئی دوسری دوا مؤثر یا موجود نہ ہو۔

مأخَذُ الفَتوی

ففي الفتاوى الهندية: ولا بأس بأن يسعط الرجل بلبن المرأة ويشربه للدواء (إلى قوله) يجوز للعليل شرب الدم والبول وأكل الميتة للتداوي إذا أخبره طبيب مسلم أن شفاءه فيه ولم يجد من المباح ما يقوم مقامه وإن قال الطبيب يتعجل شفاؤك فيه وجهان هل يجوز شرب القليل من الخمر للتداوي إذا لم يجد شيئا يقوم مقامه فيه وجهان كذا في التمرتاشي اھ (5/ 355)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 17735کی تصدیق کریں
0     29
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • شوہر کا بیوی کو خون عطیہ کرنا

    یونیکوڈ   اسکین   اعضاء کی پیوند کاری 0
  • بالوں کی پیوند کاری جائز ہے یا نہیں ؟ وضو اور نماز ہوجائے گی ؟

    یونیکوڈ   اسکین   اعضاء کی پیوند کاری 0
  • مسلمان کیلئے کافر کے خون کا عطیہ

    یونیکوڈ   اسکین   اعضاء کی پیوند کاری 0
  • غیر مسلم شیعہ وغیرہ کو خون عطیہ کرنا کیسا ہے؟

    یونیکوڈ   اعضاء کی پیوند کاری 0
  • حسن میں اضافہ کے لیے اعضاء کی سرجری کرانا جائز ہے ؟

    یونیکوڈ   اعضاء کی پیوند کاری 0
  • وگز یا آرٹیفیشل ہیئر لگا کر نماز پڑھنے کا حکم

    یونیکوڈ   اعضاء کی پیوند کاری 0
Related Topics متعلقه موضوعات