اگر بیوی شوہر کی غیر موجودگی میں اس کی کمائی سے پیسے چوری کر کے اپنے گھر والوں میں تقسیم کرتی ہے، یا اپنے بچوں اور شوہر پر خرچ کرتی ہے، اور شوہر کو اس بات کا پتہ چل جاتا ہو، تو اسکا شریعت میں کیا حکم ہے؟ اور اس کے ساتھ کیا معاملہ کیا جائے ؟
بیوی بچوں کی ضروریات کے لیے شوہر کی طرف سے اگر کچھ انتظام نہ ہوتا ہو، اور ایسی صورت میں بیوی اپنے شوہر کے جیب سے بقدر ضرورت پیسہ نکال لے، توشرعاً اس میں کوئی حرج نہیں ، اور اس سے وہ گناہ گار بھی نہ ہوگی، بصورت دیگر اس کے لیے شوہر کی غیر موجودگی میں ، یا اس کی اجازت کے بغیر پیسہ نکالنا جائز نہیں ہے، اس سے احتراز لازم ہے۔
کما فی الھدایة: قال: " النفقة واجبة للزوجة على زوجها مسلمة كانت أو كافرة إذا سلمت نفسها إلى منزله فعليه نفقتها وكسوتها وسكناها " والأصل في ذلك قوله تعالى: {لِيُنْفِقْ ذُو سَعَةٍ مِنْ سَعَتِهِ} [الطلاق: من الآية7] وقوله تعالى: {وَعَلَى الْمَوْلُودِ لَهُ رِزْقُهُنَّ وَكِسْوَتُهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ} [البقرة: 233] وقوله عليه الصلاة والسلام في حديث حجة الوداع: " ولهن عليكم رزقهن وكسوتهن بالمعروف " (الی قولہ ) وجه الأول قوله عليه الصلاة والسلام لهند امرأة أبي سفيان: " خذي من مال زوجك ما يكفيك وولدك بالمعروف " الخ (2/285)۔