علامہ صاحب برائے مہربانی مجھے بتائیں کہ قسطوں کا کاروبار سود کے زمرے میں آتا ہے کہ نہیں؟ اگر آتا ہے تو کیا ایک مسلمان ہونے کے ناطے یہ کام کرنا جائز ہے کہ نہیں؟ میں آپ کا شکر گزار ہونگا ۔
ادھار اور قسطوں کا کاروبار بھی شرعاً جائز اور درست ہے، البتہ اس میں درج ذیل شرائط کا لحاظ رکھنا ضروری ہے ۔
(۱) مجلس عقد میں ہی یہ طے ہوا ہو کہ معاملہ ادھار اور قسطوں پر ہوگا۔
(۲) جتنی قسطیں بھی ہوں وہ متعین کر دی جائیں۔
(۳) کسی قسط کے شارٹ یا مؤخر ہونے کی وجہ سے کوئی جرمانہ مقرر نہ کیا جائے ، ورنہ یہ معاملہ شرعاً جائز نہیں ہوگا ۔
کما في بحوث في قضايا فقهية معاصرة: البيع بالتقسيط بيع بثمن مؤجل يدفع إلى البائع في أقساط متفق عليها، فيدفع البائع البضاعة المبيعة إلى المشتري حالّة، ويدفع المشتري الثمن في أقساط مؤجلة، وإن اسم (البيع بالتقسيط) يشمل كل بيع بهذه الصفة سواء كان الثمن المتفق عليه مساويا لسعر السوق، أو أكثر منه، أو أقل، ولكن المعمول به في الغالب أن الثمن في (البيع بالتقسيط) يكون أكثر من سعر تلك البضاعة في السوق اھ (ص: 11)
و في المبسوط للسرخسي: وإذا عقد العقد على أنه إلى أجل كذا بكذا وبالنقد بكذا أو قال إلى شهر بكذا أو إلى شهرين بكذا فهو فاسد لأنه لم يعاطه على ثمن معلوم ولنهي النبي صلى الله عليه وسلم عن شرطين في بيع وهذا هو تفسير الشرطين في بيع ومطلق النهي يوجب الفساد في العقود الشرعية وهذا إذا افترقا على هذا فإن كان يتراضيان بينهما ولم يتفرقا حتى قاطعه على ثمن معلوم وأتما العقد عليه فهو جائز لأنهما ما افترقا إلا بعد تمام شرط صحة العقد. (13/ 13) واللہ اعلم بالصواب
تصاویر والے ڈبوں اور پیکٹوں میں پیک شدہ اشیاء کا کاروبار-نسوار اور سگریٹ کا کاروبار
یونیکوڈ کاروبار 0