میں چار سال سے پی ای ایم ایکس ، کمپنی کے ساتھ کام کرتا ہوں، اس کا طریقہ کار یہ ہے کہ مل کا مالک یا کوئی کمپنی آکر ان سے اپنا مال بیچنے کا کہتی ہے پی ای ایم ایکس، اپنی ٹیم بھیج کر ان کے مال کا معاینہ کرنے کے بعد اس کا ریٹ نیٹ پر شو کرتی ہے ، یہ اپنے خریدار کو بھی اس کے مال کو آگے بیچنے کی ضمانت دیتی ہے اگر وہ بیچنا چاہے تو ، کیونکہ سونا، چاندی، اور تیل کے گاہک ہر وقت ملتے ہیں، اس لیے وہ تو فوراً بک جاتے ہیں، البتہ چینی ، چاول ، اور گندم میں 3 ماہ کا ٹائم ہوتا ہے اگر تین ماہ میں خریدار نہ ملے تو پی ای ایم ایکس پہلے خریدار کو کہتی ہے کہ اپنا مال لے جاؤ ،ورنہ آپ کا مال ضائع ہو جائیگا ، اس طرح کا روبار کرنا جائز ہے ؟
سوال میں مذکور تفصیل سے معلوم ہوتا ہے کہ مذکورہ کمپنی ایک مخصوص مدت تک اپنے کسٹمر کا مال بکوا کر اس سے کمیشن لیتی ہے، اب اگر یہ کمیشن پہلے سے طے کر لیا جاتا ہو، اور فریقین اس پر رضا مندی بھی ظاہر کرتے ہوں تو یہ شرعاً بھی جائز ہے ، اور اگر کوئی اور طریقہ کار ہو تو دوبارہ پوری تفصیل لکھ کر حکم شرعی بھی معلوم کیا جا سکتا ہے۔
و في الفتاوى الهندية: و في الدلال والسمسار يجب أجر المثل وما تواضعوا عليه أن من كل عشرة دنانير كذا فذلك حرام عليهم كذا في الذخيرة اھ (4/ 450)
و في المبسوط للسرخسي: والسمسار اسم لمن يعمل للغير بالأجر بيعا وشراء ومقصوده من إيراد الحديث بيان جواز ذلك ولهذا بين في الباب طريق الجواز اھ (15/ 209)
تصاویر والے ڈبوں اور پیکٹوں میں پیک شدہ اشیاء کا کاروبار-نسوار اور سگریٹ کا کاروبار
یونیکوڈ کاروبار 0