السلام علیکم !
اللہ تعالی آپ کو پہلے سوال کا جواب دینے پر جزائے خیر عطا فرمائے ، انشاء اللہ میں اسی کے مطابق عمل کرونگا، لیکن مسئلہ یہ ہے کہ آج کل میرے والدین کی آپس میں بالکل بات نہیں ہو رہی، انا اور ضد کی خصلت آگئی ہے، میں کیوں بات کروں درگزر کرنا نہیں آرہا، والدہ کو زبان پے کنٹرول نہیں بنا سوچے سمجھے کہہ دیتی ہے، اور والد صاحب کو غصہ پے کنٹرول نہیں درگزر کرنانہیں آتا ،میں کیا کروں بہت پریشان ہوں؟
اس سلسلہ میں ضروری بات تو پہلے فتویٰ میں لکھ دی گئی ہے، بلاوجہ ٹینشن لینے کے بجائے اسی کے مطابق عمل چاہیئے ، جبکہ تفصیل کے لئے والدین کے حقوق پر مشتمل کتب کا مطالعہ مفید رہے گا۔