ہنڈی کا روبار جائز ہے یا نہیں ؟ اگر ایک بندہ ایک ملک سے دوسرے ملک پیسہ ٹرانسفر کرتا ہے، جو کہ بہت بڑی رقم ہے ،ہنڈی کیوجہ سے وہ کر سکتا ہے کہ نہیں؟ ہنڈی سے اس کو ریٹ بھی اچھا ملتا ہے، اور چار جز بھی نہیں دینے پڑتے ،تو کیا یہ جائز ہے یا نہیں؟ دوسری بات یہ ہیکہ ایک بندہ جس کا ہنڈی کا کاروبار نہیں، لیکن وہ پیسہ سینڈ کرنے والے کو ہنڈی والے ہنڈی والے سے ملواتا ہے اور وہ اپنا کمیشن رکھتا ہے تو کیا یہ کمیشن جائز ہو گا یا نہیں ؟
ہنڈی کا کاروبار دو شرطوں کیساتھ جائز ہے، ایک :یہ کہ مجلس عقد میں دونوں فریقوں میں سے کوئی ایک اپنی رقم پر قبضہ کرے، دوئم :یہ کہ اس کا روبار کی قانونا ًاجازت ہو، جبکہ ملانے والے شخص کو اگر کچھ محنت کرنی پڑتی ہو تو اس پر طے شدہ کمیشن لینے کی بھی گنجائش ہو گی، ورنہ محض بتانے کیوجہ سے نہیں۔
في الدر المختار: (باع فلوسا بمثلها أو بدراهم أو بدنانير فإن نقد أحدهما جاز) وإن تفرقا بلا قبض أحدهما لم يجز لما مر اھ (5/ 179)۔
وفي شرح الاشباه والنظائر: قال المصنف في شرح الكنز ناقلا عن ائمتنا الطاعة الامام في غير المعصية واجبة اھ (۱/ ۳۳۲) ۔
وفي الدر المختار وحاشية ابن عابدين: وأما الدلال فإن باع العين بنفسه بإذن ربها فأجرته على البائع وإن سعى بينهما وباع المالك بنفسه يعتبر العرف وتمامه في شرح الوهبانية. (4/ 560) والله اعلم بالصواب!
تصاویر والے ڈبوں اور پیکٹوں میں پیک شدہ اشیاء کا کاروبار-نسوار اور سگریٹ کا کاروبار
یونیکوڈ کاروبار 0