السلام علیکم! مولانا صاحب! میں نے نماز میں نوافل کبھی ادا نہیں کیے، حتیٰ کہ عشاء کی نماز میں بھی نوافل ادا نہ کرنے پر مجھے گائیڈ کریں ، تاکہ میں نوافل ادا کرنے لگ جاؤں۔
واضح ہو کہ نفل اگرچہ شرعاً لازم نہیں اور ان کی عدم ادائیگی میں کوئی گناہ یا حرج بھی نہیں، مگر جس طرح کی ہماری نمازیں ہیں ان کو دیکھتے ہوئے بندے کے پاس نفلوں کا ذخیرہ بھی ہونا لازمی ہے، کیونکہ ایک حدیث میں ہے ’’ کہ قیامت میں آدمی کے اعمال میں سے سب سے پہلے فرض نماز کا حساب کیا جائے گا، اگر نماز اچھی نکل آئی وہ شخص کامیاب ہوگا اور بامراد اور اگر نماز بیکار ثابت ہوئی تو وہ نامراد، خسارہ میں ہوگا اور اگر فرض نماز میں کچھ کمی پائی گئی تو ارشاد خداوندی ہوگا کہ دیکھو اس بندے کے پاس کچھ نفلیں بھی ہیں جس سے فرضوں کو پورا کر دیا جائے۔ اگر نکل آئیں تو ان سے فرضوں کی تکمیل کر دی جائےگی‘‘، اس حدیث شریف معلوم ہوا کہ آدمی کو نفلوں کا ذخیرہ بھی اپنے پاس کافی رکھنا چاہیے کہ اگر فرضوں میں کچھ کوتاہی نکلے تو میزان پوری ہو جائے۔
ففی مشكاة المصابيح: وعن أبي هريرة قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: "إن أول ما يحاسب به العبد يوم القيامة من عمله صلاته فإن صلحت فقد أفلح وأنجح وإن فسدت فقد خاب وخسر فإن انتقص من فريضته شيء قال الرب تبارك وتعالى: نظروا هل لعبدي من تطوع؟ فيكمل بها ما انتقص من الفريضة ثم يكون سائر عمله على ذلك". (1/ 419) واللہ اعلم
سنن زوائد یا نفل کی چار رکعات میں قعدۂ اولیٰ میں تشہد کے بعددرود شریف اور ادعیۂ ماثورہ پڑھنا
یونیکوڈ نوافل 0