میں 37 سال کا ہوں اور حج کی دائیگی کے لیے جارہا ہوں ،میرا مسئلہ یہ ہے کہ دن میں کبھی کبھار دو ،تین مرتبہ مجھے پیشاب کے قطرے آتے ہیں ،اب جب میں احرام میں ہوں تو مجھے کیا کرنا چاہیے۔
سائل شرعاً معذور نہیں ، اس لیے اسے چاہیے کہ اطمینان کے بعد وضو کرکے احرام باندھے اور اعمال ِ حج و عمرہ بجا لائے،اگر اس دوران قطرہ آجائے تو وضو ٹوٹ جائے گا، مگر احرام کے لیے با وضو ہونا ضروری نہیں ،البتہ جہاں وضو ضروری ہو وضوکرے۔
کما فی الہندیة : شرط ثبوت العذر ابتداء أن يستوعب استمراره وقت الصلاة كاملا اھ (1/41)۔
و فیھا أیضاً : الغائط يوجب الوضوء قل أو كثر وكذلك البول والريح الخارجة من الدبر. كذا في المحيط.ھ (1/9)۔