آپ سے’’ یونائیکو‘‘ کمپنی کے بارے میں پوچھنا تھا کہ اس کا کاروبار جائز ہے کہ نہیں یہ آج کل ’’سائٹ ٹاک کام‘‘ نام سے ویب سائٹ ہے جس میں پہلے فارم فل کرنا یا پڑھتا ہے نیٹ پر، پھر یونائیکو کمپنی جس کا کام بس اپنے زیادہ سے زیادہ یوزر بنانا ہے تاکہ یہ ’’فیس بوک‘‘ سے بھی آگے بڑھ جائے ،اس کمپنی کا طریق کار یہ ہے کہ سب سے پہلے کمپنی کا ممبر بننا پڑتا ہے جس کے لئے نیٹ پر فارم فل کرنا ہے اس کے بعد آپ کو کمپنی کے لئے یوزر بنانا ہوتا ہے آپ جتنے یوزر بناتے ہیں اس یوزر کا دس فیصد آپ کو ملتا ہے اس طرح اگر آپ ۱۰۰۰ یوزر بناتے ہو تو آپ کو سو یورو اکاؤنٹ میں آجائیگا۔
اگر اس ویب سائٹ کا یوزر بننے سے کسی غیر شرعی کام کی تائید و ترویج نہ ہوتی ہو اور یوزر بنانے کے لئے محنت کا بھی دخل ہو تو اس پر ملنے والی آمدنی حلال ہے ، ورنہ نہیں۔
ففي احكام القرآن التهانوى : الكلام ان شرع الاسلام قد سد ابواب الفساد كلها ولأجل ذلك نهی عن الاعانة علی المعصية ونهى عن التسبب المعصية الاول اذا کان بقصد المعصیة اھ (۳/ ۸۱)
تصاویر والے ڈبوں اور پیکٹوں میں پیک شدہ اشیاء کا کاروبار-نسوار اور سگریٹ کا کاروبار
یونیکوڈ کاروبار 0