السلام علیکم! میں یہ جاننا چاہتا ہوں کہ اگر میں مکہ مکرمہ میں داخل ہونا چاہوں نہ تو عمرہ کی نیت سے اور نہ ہی حج کے ارادے سے، بلکہ شہر کی سیر و تفریح کے لیے یا اپنے رشتہ داروں یا دوستوں سے ملاقات کے لیے تو اس صورت میں کیا نیت ہو ؟ اور کس کو میقات بنایا جائے اور اس احرام سے کیسے نکالا جائے ؟ میقات میں سے گزرنے کے لیے کس چیز کا مطالبہ ہے ؟
جو غیرملکی میقات سے باہر رہنے والا مکہ یا حرم کا ارادہ رکھتا ہو اس کے لیے میقات سے بغیر احرام کے گزرنا جائز نہیں، خواہ اس کا ارادہ حج و عمرہ کا ہو یا سیر و تفریح کا ، لہذا صورت مسئولہ میں سائل پر لازم ہے کہ وہ میقات سے گزرتے وقت عمرے کی نیت سے احرام باندھے اور پھر وہاں پہنچ کر عمر ہ ادا کرنے کے بعد احرام سے نکل کر باقی کام سر انجام دے۔
كما فی الفقه الاسلامى و ادلۃ : ولا يجوز للانسان أن يجاور الميقات الامحرما بحج أو عمرة والأوجب عليه دم او العودة اليه فإن قدم الاحرام على الميقات جاز بالاتفاقاھ(68/3)۔
وفیهأیضاً : قال أبو حنيفة أن كانت داره فی الميقات أو أقرب إلى مكة جاز دخوله بلا احرام والافلا اھ (71/3)۔
و فیه أیضاً:العمرة عند الحنفیة : فركنها الطواف لقوله تعالى وليطوفوا بالبيتالعتيق، واجباتها اثنان السعي بين الصفاء والمروة والحلق أو التقصير اھ(91/3)۔