کیا ریاض سے مکہ میں سیر کرنے کی اجازت ہے؟ اور عمرے کی نیت کے بغیرحرم میں نمازیں پڑھنا جائز ہے ؟ کیا میری بیوی ایام ِحیض کے دوران عمرے کی نیت کے بغیر مکہ کی سیر کر سکتی ہے ؟
ایسی صورت میں بھی بحالتِ احرام مکہ مکرمہ میں داخل ہونا لازم ہے، اس لئے اولاً تو سائل کی بیوی کو چاہیئے کہ وہ پاکی کے دنوں میں سفر کرے، تاکہ طواف کے سلسلہ میں پریشانی نہ اٹھانی پڑے، ورنہ وہ پاکی اور طہارت کا انتظار کرے اور طہارت حاصل ہونے پر عمرہ بجا لا کر واپس اپنے گھر لوٹے۔
کما فی الدر : (وحرم تأخير الإحرام عنها) كلها (لمن) أي لآفاقي (قصد دخول مكة) يعني الحرم (ولو لحاجة) غير الحج اھ ۔
و فی الرد تحت : (قوله أي لآفاقي) أي ومن ألحق به كالحرمي والحلي إذا خرجا إلى الميقات كما يأتي فتقييده بالآفاقي للاحتراز عما لو بقيا فی مكانهما(الی قوله )(قوله غير الحج) كمجرد الرؤية والنزهة أو التجارة فتح اھ (2/ 477)۔
و فی الہدایۃ : وإذا حاضت المرأة عند الإحرام اغتسلت وأحرمت وصنعت كما يصنعه الحاج غير أنها لا تطوف بالبيت حتى تطهر " لحديث عائشة رضي الله عنها حين حاضت بسرف اھ (1/ 156)۔