میں یہ پوچھنا چاہتا ہوں کہ آج کل انٹرنیٹ پر کمپیوٹر کے ذریعے ’’فاریکس “ کا کام ہو رہا ہے ،جس میں مختلف کرنسیز اور سونے کا کام بھی ہو رہا ہے ، اس کا طریقہ یہ ہے کہ پیسے جمع کروا کےایک اکاؤنٹ کھولیں، اس کے بعد آپ اس کے ذریعے گھر بیٹھے کوئی چیز اس مارکیٹ سے خریدیں ،اور نفع ملنے پر اس کو بیچ دیں، سونا ہو، تیل ہو یا کوئی کرنسی ہو تو کیا یہ جائز ہے کہ کوئی چیز ہاتھ تک تو نہ آئے،لیکن خریدی اپنے پیسوں کے ذریعے ہو،اور پھر بیچ بھی دی ہو تو اس کا نفع نقصان انسان پر حلال ہے ؟اس کی تفصیل تو آپ کے پاس ہوگی ؟ اس لئے میں زیادہ تفصیل سے نہیں لکھ رہا ،آپ راہ نمائی فرمادیں، کیونکہ میں نے اس میں کچھ لاگت لگائی ہوئی ہے ، اور معلوم بھی نہیں کیا ہوا، اس لئے پریشان بھی ہوں۔
مذکور کاروبار میں عام طور پر خرید و فروخت مقصود نہیں ہوتا، بلکہ فرق برابر کر کے نفع کمانا مقصود ہوتا ہے ، اسی وجہ سے اس کاروبار میں قبضہ کے بغیر ہی وہ چیز آگے بیچ دی جاتی ہے، اور قبضہ کیے بغیر چیز آگے بیچنا جائز نہیں ، اس لئے عام حالات میں تو یہ کاروبار درست نہیں، لہذا عمومی طور پر ایسے کاروبار سے احتراز لازم ہے، تاہم اگر کسی شخص کا کوئی وکیل اس طرح کے سامان پر قبضہ کر کے آگے بیچے تو بلا شبہ اس کا نفع بھی حلال ہوگا۔
كما فى مشكاة المصابيح : وعن ابن عباس قال: أما الذي نهى عنه النبي صلى الله عليه وسلم فهو الطعام أن يباع حتى يقبض . قال ابن عباس: ولا أحسب كل شيء إلا مثله (متفق عليه) اھ (2/ 141)-
وفي الدر المختار: ف (- لا) يصح اتفاقا ككتابة وإجارة و (بيع منقول) قبل قبضه (۵/ ۱۴۷)-
تصاویر والے ڈبوں اور پیکٹوں میں پیک شدہ اشیاء کا کاروبار-نسوار اور سگریٹ کا کاروبار
یونیکوڈ کاروبار 0