اگر کوئی آدمی سلام کے اندر ’’وبرکاتہ‘‘ کے بعد ’’ومغفرتہ‘‘ کا اضافہ کرتاہے تو اس کا کیا حکم ہے؟ نیز اگر ’’وجنۃ المقام‘‘ ، ’’ودوزخ الحرام‘‘ جیسے الفاظ بڑھاتاہے تو کیا اس کو اس دائرے میں شمار کیا جائے گا کہ یہ دین کے ساتھ مستی کر رہاہے , تمسخر کررہاہے؟
واضح ہو کہ سلام یا اس کے جواب میں ورحمۃ اللہ وبرکاتہ کے دعائیہ کلمات اور ان پر تیس نیکیوں کا ملنا تو احادیثِ مبارکہ سے بلا شبہ ثابت ہے اس کو معمول بنانے کے ساتھ ساتھ اسی کو رواج دینا چاہیئے اور یہ سنت بھی ہے جبکہ اس کے ساتھ ہی صرف "مغفرتہ "اور بعض روایات میں "صلوٰتہ "کے الفاظ بھی آتے ہیں اس سے زائد ’’جنۃ المقام‘‘، ’’ودوزخ الحرام‘‘ کا جو اضافہ ہے یہ کلمات اگرچہ اچھے معنی کو شامل ہوں اس کے باوجود ضابطۂ شرعی کے خلاف ہیں پھر ان پر ثواب کی امیدر کھنے سے یہ بدعت کے حکم میں بھی داخل ہوسکتے ہیں اس لئےاس طرح کے زائد کلمات بولنے سے احتراز چاہیئےک۔
کما فی المشکوٰة: عن عمران بن حصین عن عمران بن حصين، ان رجلا جاء إلى النبي صلى الله عليه وسلم فقال: " السلام عليكم، قال: قال النبي صلى الله عليه وسلم: " عشر "، ثم جاء آخر فقال: " السلام عليكم ورحمة الله، فقال النبي صلى الله عليه وسلم: " عشرون "، ثم جاء آخر فقال: " السلام عليكم ورحمة الله وبركاته، فقال النبي صلى الله عليه وسلم: " ثلاثون " , (ص: ۳۹۸)
وفی الهندیة: والافضل للمسلم ان یقول السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاته والمجیب کذلك یرد ولا ینبغی ان یزاد علی البرکات شیءٌ قال ابن عباس رضی اللہ عنهما لکل شیء منتهی ومنتهی السلام البرکات الخ. (۵/ ۳۲۵)-
وعن معاذ بن انس رضی اللہ عنه عن النبیﷺ بمعناه وزاد ’’ثم اتی اٰخر، فقال: السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاته ومغفرته فقال ’’اربعون وقال هکذا تکون الفضائل‘‘ رواه ابو داؤد (المشکٰوة: ص ۳۹۸)-
واخرج البخاری فی ادب المفرد: من طریق عمر بن شعیب عن سالم مولٰی بن عمر رضی اللہ عنهما قال وکان ابن عمر رضی اللہ عنها یزید اذا رد السلام (الٰی قوله) فزدت وبرکاته فرد وزاد وطیب صلٰوته. (ص ۲۷۳)-
تیجہ، بیسواں، چالیسواں، برسی، پہلے جمعہ کی رات وغیرہ میں جمع ہو کر اجتماعی دعا کرنا
یونیکوڈ احکام بدعات 1