السلام علیکم ورحمۃ اللہ!
کریڈٹ کارڈ کا استعمال کرنا حرام کیوں ہے؟ اور سودی کس طرح ہے؟ میں نے سنا ہے کہ اضافی چارچز اداکرنا حرام ہے، جو بل کے دیر سے ادائیگی کی وجہ سے ہے۔ اور کیا مصنوعات کی قیمت پر کریڈٹ کارڈ کا استعمال کرتے ہوئے اضافی چارجز ادا کرنا حرام ہے؟ براہ مہربانی تفصیل سے وضاحت فرمادیں۔
مجبوری اور ضرورت کے تحت کریڈٹ کارڈ کا خریدنا اور اس کا استعمال کرنا اس شرط کے ساتھ جائز ہے کہ جاری کردہ بلوں کی قیمت مقررہ مدت کے اندر ادا کر دی جائے ،تاکہ ان پر سود لاگو نہ ہوسکے، کیونکہ اس پر بھی سود ادا کرنا حرام ہے، جبکہ براہِ راست کریڈٹ کارڈ کے ذریعہ نقدی حاصل کرنا اس شرط پر جائز ہے کہ نقدی حاصل کرتے وقت کوئی زائد ٹیکس نہ لیا جائے، خواہ دکاندار جاری کرے یا بینک، کیونکہ زائد ٹیکس خدمات کی لاگت کے مقابلے میں نہیں، بلکہ قرض کے مقابلے میں ہوگا جو خالص سود ہے ، جبکہ مشین کے ذریعے حاصل کرنے میں گنجائش ہے، کیونکہ اس صورت میں یہ قرض کے مقابلے میں نہیں ہے، چنانچہ اس تفصیل کو ملحوظ رکھتے ہوئے سائل بھی کریڈٹ کارڈ استعمال کر سکتا ہے۔
کریڈٹ کارڈ کا استعمال اور اس پر ملنے والے پوائنٹس و ڈسکاؤنٹ وغیرہ استعمال کرنےکا حکم
یونیکوڈ کریڈٹ کارڈ 0