السلام علیکم ورحمۃالله!
پاکستان میں ”گولڈ مائن انٹر نیشنل“ نے کاروبار شروع کیا ہے، اور وہ ممبر بناتے ہیں، اور ان کے ساتھ کام کرنے میں ممبر کو کمیشن ملتا ہے، کیا یہ طریقہ شرعاً جائز ہے یا نہیں ؟
سوال میں تحریر کردہ ’’ گولڈ مائن انٹرنیشنل ‘‘کے طریقہ کار پر غور کیا گیا، آج کل اس نوعیت کا کاروبار کرنے والی بہت سی ایسی کمپنیاں آئی ہیں، جو کم قیمت کی چیز مہنگے دام فروخت کرتی ہیں، اور ساتھ ساتھ آگے ممبر بنا کر اس پر کمیشن دینے کی پیشکش کرتی ہیں، لوگ کمیشن کے لالچ میں آکر کم قیمت کی چیز مہنگے دام خرید لیتے ہیں، جو شرعا ً’’ قمار‘‘ یعنی جوئے کی ہی ایک شکل ہے۔
چنانچہ ’’ گولڈ مائن انٹرنیشنل ‘کمپنی کی مصنوعات اگر عام بازاری قیمت سے زیادہ پر فروخت کی جاتی ہیں، تو یہ کاروبار بھی نا جائز ہے، اور اس کے معلوم کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ اگر کمپنی کی مصنوعات مارکیٹ میں نہیں ہیں ،تو اس چیز کو عام مارکیٹ میں فروخت کرے، لوگ جس قیمت پر خریدنے کیلئے تیار ہیں، تو اس کی قیمت بازاری قیمت کے برابر ہے، اور اگر اس قیمت پر لوگ خریدنے کیلئے تیار نہیں ہیں تو یہ علامت ہے کہ اس کی قیمت بازاری قیمت سے زیادہ ہے اور زیادہ قیمت داؤ پر لگی ہوئی ہے کہ اگر یہ شخص ممبر بنانے میں کامیاب ہو گیا تو ٹھیک ہے ،اور اگر ممبر بنانے میں کامیاب نہ ہوسکا ،تو اس صورت میں اس کی زائد رقم ڈوب جائیگی۔ لیکن اگر کمپنی کی مصنوعات کی قیمتیں عام بازاری قیمت کے برابر ہوں یا بہت معمولی فرق ہو تو بھی اس کمپنی کے طریقہ کار میں درجِ ذیل خرابیاں پائی جاتی ہیں:
۱:یہ بات جو کہی جاتی ہے کہ کمپنی کا اصل مقصد کمپنی کی مصنوعات کو فروخت کرنا ہی ہوتا ہے، محض حیلہ ہے، جس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں، کیونکہ اگر کوئی شخص ممبر بنے بغیر اس کمپنی کی مصنوعات خریدنا چاہے ،اور اس زنجیر میں شامل نہ ہوتو کمپنی اس کو یہ مصنوعات فروخت نہیں کرتی ۔
۲: کسی شخص کا کمپنی کے طریقہ کار میں کمیشن کا حقدار بننے کیلئے دونوں طرف ممبر بنانا شرط ہے، چنانچہ اگر کوئی شخص ایک طرف ممبر بنائے اور دوسری طرف ممبر نہ بنائے یا مطلوبہ تعداد سے کم بنائے تو اس کو اس کی محنت کا صلہ نہیں ملتا، شرعی اعتبار سے یہ شرط لگانا جائز نہیں، کیونکہ اس میں ایک تو کسی شخص کی محنت بیکار جاتی ہے اور اس کا صلہ اس کو کچھ نہیں ملتا، دوسرا یہ کہ اس صورت میں اس کو ملنے والا کمیشن وجود و عدم کے درمیان معلق ہے گویا اس طرح معاملہ ہوا کہ اگر دونوں طرف ممبر بنائے تو اتنا کمیشن ملے گا اور اگر اس سے کم بنائے تو کچھ بھی کمیشن نہیں ملے گا اور شرعا ًیہ درست نہیں ۔ ہاں! اگر یہ ہوتا کہ ایک طرف ممبر بنانے پر کم کمیشن ملے گا اور مطلوبہ تعداد کے مطابق بنانے پر مکمل کمیشن ملے گا تو اس کی شرعاً گنجائش ہے۔ لہذا اس موجودہ طریقہ کار میں جو خرابیاں ہیں ان کے ساتھ اس کاروبار میں شرکت کرنا جائز نہیں، اس سے خود بھی بچیں اور دوسروں کو بھی بچائیں۔ جو لوگ اس طریقہ کار کے مطابق اس کاروبار میں شامل ہیں ان کو چاہئیے کہ اس کاروبار کو چھوڑ دیں اور جو غلطی ہوئی اس پر توبہ و استغفار کریں اور اس کاروبار سے حاصل ہونے والی آمدنی کو استعمال کرنے سے اجتناب کریں ۔
تصاویر والے ڈبوں اور پیکٹوں میں پیک شدہ اشیاء کا کاروبار-نسوار اور سگریٹ کا کاروبار
یونیکوڈ کاروبار 0