السّلام علیکم !
یوٹیوب ڈاٹ کام جیسی ویب سائٹ اگر کسی کے زیر نگرانی ہو، اور وہ اس کے ذریعے پیسے کماتا ہو تو کیا یہ حلال ہے یا حرام ؟ کیونکہ یہ پیسے غیر مسلموں کی طرف سے آتے ہیں۔ برائے مہربانی مجھے درست جواب سے آگاہ فرمائیں .
اگر یہ ویب سائیٹ کسی قسم کے جائز و مباح اُمور کی تشہیر وغیرہ کیلئے بنائی گئی ہو، اور خلافِ شرع امور کے ارتکاب سے واضح طور پر منع کیا جاتا ہو تو ایسی صورت میں اس ویب سائیٹ کا جائز و مباح استعمال بلا شبہ درست ہے، ورنہ اس سے حاصل ہونے والی آمدنی اپنے تصرف میں لانے سے احتراز چاہئیے ۔
کمافي التنزيل : وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَى وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ وَاتَّقُوا اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ﴾ [المائدة: 2] ۔
وفي الدر المختار: وأفاد كلامهم أن ما قامت المعصية بعينه يكره بيعه تحريما وإلا فتنزيها نهر. (4/ 268)۔
وفيه ايضاً : (و) جاز تعمير كنيسة و (حمل خمر ذمي) بنفسه أو دابته (بأجر) اھ (6/ 391)۔
وفي حاشية ابن عابدين: (قوله وجاز تعمير كنيسة) قال في الخانية: ولو آجر نفسه ليعمل في الكنيسة ويعمرها لا بأس به لأنه لا معصية في عين العمل اھ (6/ 391)-