السلام علیکم! درج ذیل باتیں اگر درست ہے تو باحوالہ جواب دیں:
۱۔ نماز کی حالت میں آنکھیں بند کرنا مکروہ ہے؟
۲۔ حالتِ قیام میں نظریں سجدہ کے مقام پر ہونی چاہیے اور حالتِ رکوع میں پاؤں کے درمیان نظر ہونا چاہیے، سجدہ میں ناک کی سمت اور تشہد میں جھولی میں نظر ہونی چاہیے اور سلام کے وقت دونوں کاندھوں پر دیکھنا چاہیے؟
۱۔ جی ہاں! نماز میں بلاوجہ آنکھیں بند کرنا مکروہ ہے، ہاں اگر بند کرنے سے خشوع زیادہ ہوتا ہو تو ا سکی اجازت ہے۔
۲۔ جی ہاں! سوال میں مذکور اُمور کا لحاظ رکھنا مستحب ہے۔
ففی السنن الكبرى للبيهقي: عن أنس قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "يا أنس اجعل بصرك حيث تسجد" اھ (2/ 403)
وفی الدر المختار: (ولها آداب) (إلی قوله) نظره إلى موضع سجوده حال قيامه، وإلى ظهر قدميه اھ (1/ 477) واللہ أعلم بالصواب!
وفی الدر المختار: (و) كره (التربع) تنزيها (إلی قوله) (وتغميض عينيه) للنهي إلا لكمال الخشوع اھ (1/ 644)
ففی کنز العمال: إذا قام أحدکم إلی الصلاة فلا یغمض عینیه اھ (۷/ ۲۰۸)
جاننے والے اور نا جاننے والے برابر ہیں؟ علم میں بخل ,حسد و غرور کرنا, بغير استاد تحصيل علم
یونیکوڈ مکروھات نماز 0