السلام علیکم !
میں GMI کے ساتھ کام کرنے کے بارے میں جاننا چاہتا ہوں کہ یہ حلال ہے یا حرام؟ میرا مطلب یہ ہے کہ ایک مسلمان ہوتے ہوئے ہم اس کی یعنی کام کرنے کی نمائندگی کر سکتے ہیں یا نہیں ؟آپ معلومات حاصل کرنے کے لئے اس کا ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں اور وہ یہ کہتے ہیں کہ ان کے پاس اس کے متعلق فتویٰ ہے کہ یہ اسلام میں حلال ہے ۔ آپ کے جواب کا منتظر رہوں گا۔ والسلام
سوال میں تحریر کردہ " گولڈ مائن انٹرنیشنل" کے طریقہ کار پر غور کیا گیا آج کل اس نوعیت کا کاروبار کرنے والی بہت سی ایسی کمپنیاں آئی ہیں، جو کم قیمت کی چیز مہنگے دام فروخت کرتی ہیں ،اور ساتھ ساتھ آگے ممبر بنا کر اس پر کمیشن دینے کی پیشکش کرتی ہیں۔ لوگ کمیشن کے لالچ میں آکر کم قیمت کی چیز مہنگے داموں میں خرید لیتے ہیں ،جو شرعاً قمار کی ہی ایک شکل ہے۔ چنانچہ " گولڈ مائن انٹرنیشنل"کمپنی کی مصنوعات اگر عام بازاری قیمت سے زیادہ پر فروخت کی جاتی ہیں، تو یہ کاروبار بھی ناجائز ہے، اور اس کے معلوم کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ اگر کمپنی کی مصنوعات عام مارکیٹ میں نہیں ہیں ،تو اس چیز کو عام مارکیٹ میں فروخت کرے ,لوگ جس قیمت پر خریدنے کو تیار ہوں ،وہ اس کی بازاری قیمت ہے، اب اگر کمپنی کی قیمت پر لوگ خرید نے کے لئے تیار ہیں، تو اس کی قیمت بازاری قیمت کے برابر ہے ،اور اگر اس قیمت پر خرید نے کے لئے تیار نہیں ہیں، تو یہ علامت ہے کہ اس کی قیمت بازاری قیمت سے زیادہ ہے ،اور زائد قیمت داؤ پر لگی ہوئی ہے کہ اگر یہ شخص ممبر بنانے میں کامیاب ہو گیا تو ٹھیک ہے ،اور اگر ممبر بنانے میں کامیاب نہ ہو سکا تو اس صورت میں زائد رقم ڈوب جائے گی۔لیکن اگر کمپنی کی مصنوعات کی قیمتیں عام بازاری قیمت کے برابر بھی ہوں یا معمولی سا فرق ہو تو بھی اس کمپنی کے طریقہ کار میں درجِ ذیل خرابیاں پائی جاتی ہیں:
(1) :یہ جو بات کہی جاتی ہے کہ کمپنی کا اصل مقصد کمپنی کی مصنوعات کو فروخت کرنا ہی ہوتا ہے، یہ محض حیلہ ہے، جس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں، کیونکہ اگر کوئی شخص بغیر ممبر بنے اس کمپنی کی مصنوعات کو خریدنا چاہے اور اس زنجیر میں شامل نہ ہو تو کمپنی اس کو یہ مصنوعات فروخت نہیں کرتی۔
(۲): کسی شخص کا کمپنی کے طریقہ کار میں کمیشن کا حقدار بننے کے لئے دونوں طرف ممبر بنانا شرط ہے ، چنانچہ اگر کوئی شخص ایک طرف ممبر بنائے اور دوسری طرف نہ بنائے یا مطلوبہ تعداد سے کم بنائے ،تو اس کو اس کی محنت کا صلہ نہیں ملتا ، شرعی اعتبار سے یہ شرط لگانا جائز نہیں، کیونکہ اس میں ایک تو کسی شخص کی محنت بے کار جاتی ہے، اور اس کا صلہ اس کو کچھ نہیں ملتا ۔ دوسرا یہ کہ اس صورت میں اس کو ملنے والا کمیشن وجود وعدم کے درمیان معلق ہے، گویا اس طرح معاملہ ہوا کہ اگر دونوں طرف ممبر بنائے تو اتنا کمیشن ملے گا اور اگر اس سے کم بنائے تو کچھ بھی کمیشن نہیں ملے گا، اور شرعا ًیہ درست نہیں ہے۔ہاں اگر یہ ہوتا کہ ایک طرف ممبر بنانے پر کمیشن کم ملے گا اور مطلوبہ تعداد کے مطابق بنانے پر مکمل کمیشن ملے گا تو اس کی شرعاً گنجائش ہے۔
لہذا اس موجودہ طریقہ کار میں جو خرابیاں ہیں ان کے ساتھ اس کاروبار میں شرکت کرنا جائز نہیں، اس سے خود بھی بچیں اور دوسروں کو بھی بچائیں۔جو لوگ اس طریقہ کار کے مطابق اس کاروبار میں شامل ہیں، ان کو چاہیئے کہ اس کا روبار کو چھوڑ دیں اور جو غلطی ہوئی اس پر توبہ و استغفار کریں اور اس کاروبار سے حاصل ہونے والی آمدنی کو بھی استعمال کرنے سے اجتناب کریں۔
قال الله تبارك وتعالى: ﴿يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالْأَنْصَابُ وَالْأَزْلَامُ رِجْسٌ مِنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ فَاجْتَنِبُوهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ﴾ (المائدة: 90)۔
وفى حاشية ابن عابدين: (قوله لأنه يصير قمارا) لأن القمار من القمر الذي يزداد تارة وينقص أخرى، وسمي القمار قمارا لأن كل واحد من المقامرين ممن يجوز أن يذهب ماله إلى صاحبه، ويجوز أن يستفيد مال صاحبه وهو حرام بالنص اھ (6/ 403)۔
و في البحر الرائق: لأن القمار من القمر الذي يزاد تارة وينقص أخرى وسمي القمار قمارا لأن كل واحد من القمارين ممن يجوز أن يذهب ماله إلى صاحبه ويجوز أن يستفيد مال صاحبه فيجوز الازدياد والنقصان في كل واحد منهما فصار ذلك قمارا وهو حرام بالنص اھ (8/ 554) ۔
و في الدر المختار : (و) لا (بيع بشرط) (الى قوله) (لا يقتضيه العقد ايلائمه وفيه نفع لأحدهما أو ) اھ (۵/ ۸۵)۔
و فیہ ایضاً : (لا يقتضيه العقد ولا يلائمه وفيه نفع لأحدهما أو) فيه نفع (لمبيع) اھ (5/ 85)۔
و في حاشية ابن عابدين: (قوله وكل أنواع الكسب إلخ) أي أنواعه المباحة، بخلاف الكسب بالربا والعقود الفاسدة ونحو ذلك اھ (6/ 462)۔
تصاویر والے ڈبوں اور پیکٹوں میں پیک شدہ اشیاء کا کاروبار-نسوار اور سگریٹ کا کاروبار
یونیکوڈ کاروبار 0