میں نئی کاروں کا کاروبار کر نا چا ہتا ہوں ،کاروبار کی صورت یہ ہوتی ہے کہ ہم میں سے ایک کار بُک کرتے ہیں، اور تین مہینے کے بعد گاڑی پر قبضہ کرتے ہیں ،اور گاڑی پر قبضہ کرنے کے بعد ہم کار کو اونچے داموں بیچتے ہیں ،یعنی کمپنی کے مقرر کردہ قیمت سے زیادہ پر جو کہ مارکیٹ کی عام قیمت سے زیادہ ہوتی ہے؟
صورت مسئولہ میں گاڑی کی ملکیت اور اس پر قبضہ حاصل کرنے کے بعد اُ سے کسی گاہک پر کمپنی کی قیمت سے زیادہ پر نقد بیچنا بلاشبہ جائز اور درست ہے ،جبکہ ادھار بیچنے کی صورت میں اگردرج ذیل شرائط کو ملحوظ رکھا جائے، تو شرعاً اس میں بھی کوئی قباحت نہیں، بلکہ جائز اور درست ہے ،اور وہ شرائط یہ ہیں
(1) پہلی مجلس عقد میں یہ بات طے ہو جائے کہ یہ معاملہ نقد ہوگا یا اُدھار میں۔
(۲) اُدھار کی صورت میں کل کتنی قسطیں ہوں گی۔
(۳) ہر قسط کی مالیت کتنی ہوگی ۔
(۴) اگر کوئی قسط مؤخر ہو جائے، تو اس پر مزید کوئی چارجز نہ ہوگی، بلکہ جو رقم پہلی مجلس میں طے ہو چکی ہے، وہی لی جائے گی، اس سے زائد نہیں لی جائے گی۔
كما في الدر المختار: (وصح بثمن حال) وهو الأصل (ومؤجل إلى معلوم) لئلا يفضي إلى النزاع اھ(4/ 531)۔
وفي الهداية شرح البداية: قال المرابحة نقل ما ملكه بالعقد الأول بالثمن الأول مع زيادة ربح اھ (3/ 56)۔
وفي حاشية ابن عابدين: (قوله كل قرض جر نفعا حرام) أي إذا كان مشروطا كما علم مما نقله عن البحر، وعن الخلاصة وفي الذخيرة وإن لم يكن النفع مشروطا في القرض، فعلى قول الكرخي لا بأس به اھ (5/ 166)۔ والله أعلم بالصواب!
تصاویر والے ڈبوں اور پیکٹوں میں پیک شدہ اشیاء کا کاروبار-نسوار اور سگریٹ کا کاروبار
یونیکوڈ کاروبار 0