ہمارے بڑے بیٹے کی شادی فروری 2015 کو انجام پائی ،شادی کے تقریباً ڈھائی سال تک اولاد نہیں ہوئی تو میں نے خود اپنی بہو سے دریافت کیا کہ بیٹا آپ دونوں کے ہاں خوش خبری کی خبر نہیں ہے یعنی اولاد کی ،اس پر بہونے فوراً اولاد نہ ہونے کی وجہ میرے بیٹے پر ڈال دی، کہا کہ میں تو ٹھیک ہوں ،آپ کے بیٹے میں خرابی ہے ،تو میں نے سوال اٹھایا کہ پھر تم خاموشی سے میرے بیٹے کے ساتھ کیوں رہ رہی ہے ،کیا تمہیں اولاد کی خواہش نہیں ہے ؟ وہ اس پر خاموش ہوگئی ،میں نے کہا کہ آپ دونوں اپنا اپنا میڈیکل چیک اپ کروائیں ، جس میں خرابی ہو وہ اپنا علاج کروائے ،میں نے اپنے بیٹے سے کہا کہ اپنا میڈیکل چیک اپ کرواؤ ، میرابیٹا اس بات کے لئے تیار ہوگیا ،جب اس بات کا علم بہو اور اس کے گھر والوں کو ہوا تو اس کا بھائی جو میرا چھوٹا داماد بھی ہے ،مجھ سے لڑنے کے لئے آیا کہ یہ میاں بیوی کا مسئلہ ہے آپ لوگ کون ہوتے ہیں میاں بیوی کے معاملات میں مداخلت کرنے والے ،اس کے بعد بہو کا باپ اور ان کی شادی شدہ بیٹی بھی ہم سے لڑنے کے لئے آگئی ،میں نے جواب دیا کہ شادی کا تقاضہ نبی کریم ﷺ کی امت میں اضافہ ہے وہ تقاضہ پورا نہیں ہورہا ہے تو اس بات کی فکر کرنی چاہیئے ، اس واقعہ کے بعد میں اور میری اہلیہ اپنی بیٹی کے ہاں امریکہ چلے گئے ،تقریباً چھ ماہ بعد لوٹے ،تو میرا بیٹا مکمل طور ذہنی و جسمانی طور پر ان لوگوں کی گرفت میں آچکا تھا ،یعنی اس کے ذہن کو مکمل طور پر جادو ،ٹونہ و عملیات کے ذریعے اس کے ذہن کو کنٹرول ماؤف کرلیا گیا ہے ،اس طرح کہ میرا بیٹا وہی بات سنتا اور مانتا ہے جو اس کی بیوی اور سسرال والے کہتے ہیں،میرے بیٹے کو مجھ سے شدید نفرت دلائی گئی ہے ، جادو وغیرہ کی بات اس لئے کرررہا ہوں کہ اللہ کے حکم سے انسانی شعور کے مطابق میں اس چیز کو ثابت کرسکتا ہوں اس لئے کہ وہ لوگ اس پر مزید بات کرنے کے بجائے میرے بیٹے کو ہی اپنے والدین اور بہنوں سے جدا کرکے اپنے قریب میں الگ مکان کرائے کا لیکر دیا ہے ،اور میرے بیٹے کو اس حد تک اپنے والدین اور گھر والوں سے متنفر کردیا ہے کہ اگر وہ لوگ کہیں اس کو قتل کردو تو میرا بیٹا اس سے گریز نہیں کریگا ،یہ مختصر سا واقعہ ہے مندرجہ بالا واقعات کی روشنی میں فتوی کا منتظر ہوں کہ میرے بیٹے اور بہو کے درمیان نکاح کی شرعی حیثیت کیا رہ جاتی ہے ؟ اور میرے لئے آئندہ کے لئے رہنمائی فرمائیں ۔
نوٹ : شادی کے بعد سے لیکر اب تک دونوں میاں بیوی کے درمیان ازدواجی تعلقات قائم ہی نہیں ہوئے اس ضمن میں میں نے ڈاکٹر سے مشورہ کیا ہے کہ کیا غذا کے ذریعے مرد کو ناکارہ بنایا جاسکتا ہے ،تو ڈاکٹر کی رائے یہ ہے کہ ہاں غذا کے ذریعے مختصر وقت کے لئے ممکن ہے ،اس عمل کو بار بار دہرانے سے مطلوبہ نتائج حاصل کئے جاسکتے ہیں ،اسی طرح عملیات کے ذریعے بھی مرد کی خواہش کو ختم کیا جاسکتا ہے اگر اسی طرح سلسلہ چلتا رہا تو نکاح کے بجائے لوگ دوسرے ذرائع سے اپنی جنسی خواہشات کو پورا کریں گے یہ بات تشویش ناک ہے یہ سب شیطانی کھیل ہے ،میرے محتاط اندازے کے مطابق تقریبا 60 فیصد لوگ جادو ٹونے وعملیات کا سہارا لے رہے ہیں ،خدا کے لئے آُ پ لوگ اس بات کی فکر کیجئے۔
واضح ہو کہ محض اولاد کا نہ ہونا یا میاں بیوی کے درمیان کسی طبی مسئلے کی وجہ سے ازدواجی تعلقات کا قائم نہ ہونا، نکاح کے خود بخود ختم ہونے کا سبب نہیں بنتا، بلکہ نکاح اسی وقت ختم ہوگا جب میاں بیوی کے درمیان شرعی طریقے سے طلاق یا خلع واقع ہو، یا کسی معتبر شرعی عذر کی بنا پر دونوں کا نکاح فسخ کرلیا جائے ۔ لہٰذا صورت مسئولہ میں سائل کے بیٹے اور بہو کے درمیان کسی وجہ سے اب تک ازدواجی تعلق قائم نہ بھی ہوا ہو تب بھی ان کا نکاح ختم نہیں ہوا ،بلکہ حسب سابق برقرار ہے ۔
جبکہ سحر جادو کے برحق ہونے کے باوجود بھی سائل کا بغیر کسی ثبوت کے محض قرائن اور اندازے سے اپنے بیٹے کے سسرال پر الزام لگانا کہ انہوں نے سائل کے بیٹے پر جادو ٹونہ کیا ہے شرعاً درست نہیں ۔ البتہ اس سلسلہ میں اگر واقعۃً سائل کے بیٹے کی والدین کے خلاف ذہن سازی کی گئی ہو تو سائل کو چاہیئے کہ اللہ رب العزت سے بیٹے کی ہدایت اور راہ راست پر آنے کے لئے دعاؤں کے اہتمام کے ساتھ ساتھ اسے مناسب انداز سے سمجھانے کی کوشش بھی کرلے اور سحر جادو کے زیر اثر ہونے کی یقین کی صورت میں کسی ماہر دیندار عامل سے رابطہ کرکے مناسب علاج معالجہ کا اہتمام بھی کریں ،امید ہے کہ وقت کے ساتھ سب چیزوں میں بہتری آئیگی ۔
كما في الدر المختار: وشرعا (رفع قيد النكاح في الحال) بالبائن (أو المآل) بالرجعي (بلفظ مخصوص) هو ما اشتمل على الطلاق۔ (ج3،ص:227،کتاب الطلاق ،ط:سعید )